قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2026-27 منظور کر لیا ، اپوزیشن کے واک آؤٹ کے باعث حکومت کو فنانس بل(Government Finance Bill) کی منظوری میں آسانی ہو گئی ، بجٹ میں اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں ۔
تفصیلات کے مطابق بجٹ میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کی بیشتر سفارشات بجٹ کا حصہ بنا دی گئیں ، بجٹ کا کل حجم 18 ہزار 771ارب روپے ہے، وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11ہزار 751 ارب روپے مقرر ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپے منتقل ہوں گے۔

اتحادی حکومت نے اپنا تیسرا بجٹ ایوان زیریں سے کامیابی سے پاس کروایا، جےیو آئی کی شاہدہ بیگم ، عالیہ کامران اور نعیمہ کشور کی ترامیم کثرت رائےسے مسترد کر دی گئیں، ایم کیو ایم کےخواجہ اظہارالحسن کی غیرملکی ڈراموں پر ٹیکس برقرار رکھنے کی ترمیم بھی منظور نہ ہو سکی ۔ پیپلزپارٹی کے علی موسیٰ گیلانی نے اپنی مجوزہ ترامیم خود ہی واپس لے لی۔
قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی کی سفارش پر پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق شق 3 حذف کر دی گئی، اثاثے ضبط کرنے سے پہلے متاثرہ فریق کو مؤقف پیش کرنے کا حق دینے کی تجویز بل میں شامل کر دی گئی ۔ پی آئی اے کے ساتھ دیگر رجسٹرڈ ایئرلائنز کو بھی طیاروں اور پرزہ جات کی درآمد پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ مل گئی ۔
فنانس بل میں ترمیم کی بدولت اسٹیٹ بینک کو بینکاری ڈیٹا کا مرکزی ورچوئل ذخیرہ قائم کرنے کا اختیار حاصل ہو گامگر شیڈول بینکوں سے شہریوں کا ڈیٹا ایف بی آر کو نہیں ملے گا۔
مزید پڑھیں:تباہ شدہ ایف 15 کے فائٹر پائلٹ کا انکشاف، امریکی حکام میں کھلبلی مچ گئی
75ہزار سے1لاکھ 10 ہزار ڈالر مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی گئی ، اس سےمہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر 40فیصد ڈیوٹی لگےگی ۔ 2 سے 3 ہزار سی سی گاڑیوں پر 30 فیصد اور اس سے بڑی لگژری گاڑیوں پر 40 فیصد ایکسائز ڈیوٹی اور 92 فیصد اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی بھی لگے گی ، بجٹ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔








