وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک(Ali Pervaiz Malik) نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق جاری عوامی بحث پر وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام موجودہ ہفتے کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں کا تقابلی جائزہ ضرور لیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ حکومت قیمتوں کے تعین میں کسی ایک شعبے کو ترجیح دینے یا کسی دوسرے طبقے پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کی پالیسی پر عمل نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی شفافیت، توازن اور قومی مفاد پر مبنی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرتے وقت نہ صرف عالمی منڈی میں خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں اور معاہدوں کو بھی پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا زیادہ سے زیادہ فائدہ براہِ راست عوام تک منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ابتدا ہی سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کو اپنی ترجیح بنایا ہے اور اسی پالیسی کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:فرانس نے ناروے کو شکست دے کر گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی
وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر اب تک ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 200 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لیٹر تک کمی کی جا چکی ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور عام صارفین کو خاطر خواہ ریلیف ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل میں بھی عالمی مارکیٹ میں آنے والی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھے گی اور جہاں بھی گنجائش پیدا ہوئی، اس کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔
علی پرویز ملک نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ حکومت پاکستان قومی مفاد، معاشی بہتری اور عوامی فلاح کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “پاکستان زندہ باد۔”
برائے اطلاعِ عام: براہِ مہربانی اس ہفتے کیلئے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی پلیٹس قیمتیں ملاحظہ کریں۔ حکومت نہ تو کسی شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔ حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے، صارفین تک کوئی بھی فائدہ… pic.twitter.com/NPtvwY6cgr
— Ali Pervaiz Malik (@AliPervaiz450) June 27, 2026








