امریکا کی چار ریاستوں نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا(Meta) پلیٹ فارمز پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کو جان بوجھ کر اس انداز میں ڈیزائن کیا کہ نوجوان صارفین ان کے عادی بن جائیں، جبکہ ان پلیٹ فارمز کی حفاظت سے متعلق عوام کو گمراہ کیا گیا۔
میٹا کی حالیہ عدالتی درخواست کے مطابق ریاستوں کی جانب سے مجوزہ جرمانے کی مالیت 1400 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو کمپنی کی تقریباً 1500 ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو کے قریب ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگست میں اوکلینڈ میں مقدمے کی سماعت شروع ہوگی، جہاں کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کی ریاستیں مؤقف اختیار کریں گی کہ میٹا نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے نشہ آور نوعیت کی ڈیجیٹل مصنوعات تیار کرکے ریاستی صارفین کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی۔
دوسری جانب میٹا نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ جرمانے کی کوئی قانونی یا شواہد پر مبنی بنیاد موجود نہیں، صارفین کے تحفظ کے قوانین کی تاریخ میں اس قدر بڑے مالی جرمانے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں عدالت کا حتمی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے اور الزامات تاحال عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہیں۔








