بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پاکستانی ایل پی جی(LPG) کی عدم دستیابی کے باعث ایرانی ایل پی جی 400 سے 450 روپے فی کلومیں فروخت ہونے لگی۔
پاکستانی ایل پی جی گیس شہر میں دستیاب نہیں جس کی وجہ سےچمن کے شہری ایرانی گیس مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقے پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی فی کلو میں واضح کمی کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود ایرانی گیس 400 سو روپے سے ساڑھے چار سو روپے فی کلو میں فروخت کی جا رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:جسٹن بیبر فیفا ورلڈ کپ فائنل میں پرفارم کرینگے
مہنگائی کے ستائے شہریوں کے لیے چار سو سے ساڑھے چار سو روپے کلو تک ایل پی جی خریدنا اور کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے،اس حوالے سے دکان داروں کاکہناہے کہ اس کے ذمہ دارسپلائرزہیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر چمن سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس ایجنسیوں کو پاکستانی ایل پی جی کی باقاعدہ فراہمی کا پابند بنایا جائے تاکہ عوام کو مناسب نرخوں پر گیس دستیاب ہو سکے اوروہ مہنگی ایرانی گیس خریدنے سے بچ جائیں








