سائنسدانوں کی نئی تحقیق سے یہ اشارہ ملا ہے کہ مستقبل میں انسانی بچوں(Human children) کی جینیاتی بیماریوں کو پیدائش سے پہلے ہی ختم کرنا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال سے پہلے ابھی کئی اہم سائنسی اور اخلاقی مسائل حل ہونا باقی ہیں۔
انسان نے ہمیشہ وقت کی رفتار اور تقدیر کے فیصلوں کو بدلنے کی کوشش کی ہے، اور اب میڈیکل سائنس نے ایک ایسا قدم اٹھا لیا ہے جس نے انسان کو زندگی کی تخلیق کے بنیادی اسکرپٹ یعنی ڈی این اے کا ایڈیٹر بنا دیا ہے۔
سی این این کی ایک حالیہ سائنسی رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں نے لیبارٹری میں انسانی جنین کے اندر موجود جینیاتی نقائص کو اتنی باریکی اور درستی سے ٹھیک کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس نئی پیش رفت نے جہاں لاعلاج موروثی بیماریوں کے خاتمے کی نئی امیدیں جگا دی ہیں، وہی دنیا بھر میں اخلاقی اور قانونی بحث کا ایک نیا طوفان بھی کھڑا کر دیا ہے۔
اس سائنسی معجزے کے پیچھے ’بیس ایڈیٹنگ‘ نامی ایک نئی اور انتہائی حساس ٹیکنالوجی ہے، جسے ڈی این اے کے لیے ”ورڈ پروسیسر“ یا کٹ اینڈ پیس ٹول کہا جا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:وزیراعظم کا دورۂِ کوئٹہ سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط
حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے یہی ’بیس ایڈیٹنگ‘ تکنیک استعمال کی، جو پرانی ”کرِسپر کیس-9“ ٹیکنالوجی کے مقابلے میں زیادہ درست سمجھی جاتی ہے۔ اس طریقے سے ڈی این اے کے صرف ایک مخصوص حرف میں تبدیلی کی جا سکتی ہے، جس سے غیر ضروری یا غیر ارادی تبدیلی غیر ارادی تبدیلیوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
اس وقت جین ایڈیٹنگ کی جدید تکنیکیں بعض موروثی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہیں، جن سے کئی مریضوں کی زندگی بہتر ہوئی ہے۔ تاہم ایسے افراد میں یہ خطرہ برقرار رہتا ہے کہ وہ بیماری پیدا کرنے والے جینیاتی نقائص اپنی آئندہ نسل کو منتقل کر سکتے ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیٹرک ایگلی اور ان کی ٹیم نے مصنوعی طریقہ کار (آئی وی ایف) کے ذریعے عطیہ کیے گئے ابتدائی انسانی جنین پر تجربات کیے۔ انہوں نے ڈی این اے کی پٹڑی پر موجود انفرادی کیمیکلز کو، جو اندھے پن، دل کے عارضے یا خون کی مہلک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، پیدائش سے پہلے ہی جنین کی سطح پر بدل کر بالکل درست کر دیا۔ ماضی کی جین ایڈیٹنگ تکنیکوں کے برعکس، یہ نیا طریقہ کار اس قدر محفوظ ہے کہ اس سے ڈی این اے کے دوسرے حصوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر محفوظ ثابت ہو گئی، تو یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا طبی انقلاب ہوگا۔ بچوں میں پیدائشی اندھاپن، خون کی کمی یعنی تھلیسیمیا کا شکار معصوم جانیں اور نسل در نسل چلنے والے کینسر کے سائے ہمیشہ کے لیے ختم کیے جا سکیں گے۔
یہ ایک ایسی دنیا کا خواب ہے جہاں کوئی بچہ موروثی بیماری لے کر پیدا ہی نہیں ہوگا۔ والدین اس قابل ہو سکیں گے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند زندگی کا تحفہ پیش کر سکیں، اور وہ بیماریاں جو خاندانی شجروں کو نگل جاتی تھیں، ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔
تاہم، اس چمکتے ہوئے سائنسی رخ کا ایک تاریک اور خوفناک پہلو بھی ہے جس نے اخلاقی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انسان اب ’خدا‘ بننے کی کوشش کر رہا ہے؟ اگر آج ڈی این اے کو بیماریوں کے خاتمے کے لیے بدلا جا رہا ہے، تو کل کو یہی ٹیکنالوجی امیر طبقے کے لیے ’ڈیزائنر بیبیز‘ بنانے کا ذریعہ بن جائے گی۔
لوگ اپنی مرضی سے بچوں کی آنکھوں کا رنگ، قد، جلد کی رنگت، اور یہاں تک کہ ان کی ذہانت کا معیار بھی آرڈر پر تیار کروائیں گے۔ اس سے معاشرے میں ایک ایسی جینیاتی تفریق پیدا ہو سکتی ہے جہاں امیروں کے بچے زیادہ خوبصورت، ذہین اور صحت مند پیدا ہوں گے، جبکہ غریب طبقہ قدرتی خامیوں کے ساتھ پیچھے رہ جائے گا۔
فی الوقت دنیا کے تقریباً 70 سے زائد ممالک میں اس تبدیل شدہ جنین کو کسی خاتون کے رحم میں منتقل کر کے بچہ پیدا کرنے پر سخت قانونی پابندی ہے۔ خود اس تحقیق میں شامل سائنسدان بھی خبردار کر رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی کلینکل استعمال یعنی بچہ پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اس پر مزید کئی سالوں کی تحقیق درکار ہے۔
سائنس نے قدرت کے بند دروازے پر دستک تو دے دی ہے، لیکن اب گیند انسانوں اور عالمی رہنماؤں کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس جادوئی چھڑی کو انسانیت کی بقا کے لیے استعمال کرتے ہیں یا قدرتی توازن کو بگاڑ کر ایک نئی تباہی کو دعوت دیتے ہیں۔








