بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آٹو پالیسی 2025-30 پر وزارتوں میں اختلاف برقرار، وزیراعظم سے رہنمائی لینے کا فیصلہ

آٹو موبائل اینڈ آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ پالیسی (Automobile and Auto Parts Manufacturing Policy) 2025-30 کے مجوزہ ٹیرف ڈھانچے پر وزارت تجارت اور وزارت صنعت و پیداوار کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کے باعث وزیر توانائی کی سربراہی میں قائم وزارتی کمیٹی نے معاملہ وزیراعظم کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آٹو سیکٹر کے لیے ٹیرف تجاویز پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کمیٹی کے متعدد اجلاس منعقد ہوئے، تاہم دونوں وزارتوں کے مؤقف میں اختلاف ختم نہیں ہو سکا۔ ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق حکومت کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی (National Tariff Policy) کو ترجیح دی جائے یا آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی (Auto Industry Development Policy) پر عمل کیا جائے، کیونکہ دونوں پالیسیوں کو بیک وقت لاگو کرنا مشکل ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار کا مؤقف ہے کہ سی کے ڈی (Completely Knocked Down) کٹس، خام مال، آٹو پارٹس اور اسمبلیوں پر کسٹمز ڈیوٹی کا تعین ٹیرف پالیسی بورڈ (Tariff Policy Board) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ وزارت نے تجویز دی ہے کہ نئی آٹو پالیسی کی حتمی منظوری تک ڈیوٹی اسٹرکچر کے لیے عبوری طریقہ کار وضع کرنے کی غرض سے ٹیرف پالیسی بورڈ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق وزیر توانائی اس وقت سعودی عرب کے دورے پر ہیں، جبکہ سیکریٹری تجارت جواد پال امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدوں سے متعلق امور کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں، جس کے باعث آٹو سیکٹر کے ٹیرف معاملات پر پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

دوسری جانب پاکستان کو خطے میں الیکٹرک وہیکل (Electric Vehicle) مینوفیکچرنگ ہب بنانے کا منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہو رہا ہے، کیونکہ آٹو پالیسی اور نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی (National Electric Vehicle Policy) 2025-30 پر عمل درآمد کی رفتار توقعات کے مطابق نہیں ہے۔

این ای وی پالیسی کے تحت 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ تقریباً 2 ارب لیٹر ایندھن کی درآمدات میں کمی، ملک بھر میں چارجنگ انفراسٹرکچر کے قیام، مقامی مینوفیکچرنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات کے فروغ کے اہداف بھی شامل ہیں۔

مزیدپڑھیں:تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے 10 ارب روپے کی گرانٹ منظور

صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ لوکلائزیشن، برآمدی شرائط، ٹیرف نظام اور آٹو پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کے فیصلوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر سے متعلق ضوابط کی منظوری میں بھی تاخیر ہو رہی ہے، کیونکہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (Engineering Development Board) اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (National Energy Efficiency and Conservation Authority) کے درمیان مطلوبہ رابطہ کاری مکمل نہیں ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کو نئی گاڑیوں کی تیاری، بیٹری اسمبلی، جدید آٹو پارٹس کی مقامی پیداوار اور چارجنگ نیٹ ورک میں سرمایہ کاری کے لیے واضح، مستقل اور طویل مدتی پالیسی درکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پالیسی سازی میں مزید تاخیر ہوئی تو پاکستان میں الیکٹرک وہیکل صنعت کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق چینی کمپنیاں بی وائی ڈی (BYD) اور جیلی (Geely) جبکہ مقامی ادارے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ اور نشاط موٹرز (Nishat Motors) پہلے ہی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم پالیسی کے حتمی خدوخال واضح نہ ہونے سے صنعت کو مشکلات کا سامنا ہے۔