بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عارف حبیب نے توانائی کے بھاری اخراجات اور ٹیکسز کو سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دے دیا

معروف کاروباری شخصیت اور عارف حبیب گروپ (Arif Habib Group) کے چیئرمین عارف حبیب (Arif Habib) نے کہا ہے کہ پاکستان میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے توانائی کی بلند لاگت اور ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کو کم کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (Securities and Exchange Commission of Pakistan) میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ اگرچہ حکومت کی معاشی سمت مثبت دکھائی دے رہی ہے اور کئی معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، تاہم مہنگی بجلی اور بھاری ٹیکس جیسے اسٹرکچرل مسائل اب بھی پائیدار معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت کا زیادہ ہونا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں بجلی کی قیمتیں خطے کی دیگر مسابقتی معیشتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں، جس سے صنعتی شعبے کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عارف حبیب کا کہنا تھا کہ توانائی کی بلند قیمتوں نے پاکستانی مینوفیکچررز کی عالمی منڈی میں مسابقتی صلاحیت کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث برآمد کنندگان کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو پا رہا۔

انہوں نے کاروباری اداروں پر عائد ٹیکسوں کے بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت 29 فیصد کارپوریٹ انکم ٹیکس (Corporate Income Tax)، 10 فیصد سپر ٹیکس (Super Tax) اور دیگر ٹیکسز و لیویز کو ملا کر مجموعی بوجھ 50 سے 60 فیصد تک پہنچ جاتا ہے، جو خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں کمی کی جائے تو پاکستان سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش ملک بن سکتا ہے اور معیشت میں مثبت پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔

مزیدپڑھیں:ٹیلی نار کی دوسری سہ ماہی کی آمدنی تجزیہ کاروں کی توقعات سے کم

عارف حبیب نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ حالیہ برسوں میں شرح سود میں کمی اور بجٹ خسارے پر قابو پانے کے باعث حکومت کی مالیاتی پوزیشن بہتر ہوئی ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی وسیع صنعتی صلاحیت موجود ہے، تاہم کم طلب کے باعث متعدد کارخانے اپنی مکمل پیداواری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق اگر معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے تو موجودہ صنعتی یونٹس بغیر نئی سرمایہ کاری کے بھی اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

آخر میں عارف حبیب نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے مجموعی معاشی ماحول میں مزید بہتری آئے گی، جس سے سرمایہ کاری، صنعت اور برآمدات کے شعبوں کو فروغ ملے گا۔