اسکینڈینیوین ممالک کے بعد اب ڈنمارک(Denmark) میں بھی اسکولز اور یونیورسٹیوں میں برقعے پر پابندی لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ منصوبے کو متوازی معاشروں کا نام دیا گیا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق بعض اسکینڈینیوین ممالک میں مسلم خواتین کے پہننے والے لباس پر پہلے ہی عوامی مقامات پر پابندی عائد ہے لیکن اس اقدام سے اب ڈنمارک کے کلاس رومز تک اس پابندی کو وسعت ملے گی۔
ڈنمارک میں متوازی معاشرے کی اصطلاح رہائشی علاقوں سے مراد ہے جہاں آدھے سے زیادہ باشندے تارکین وطن کے پس منظر سے ہوں پورے چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی 2018ء میں ڈنمارک میں متعارف کرائی گئی تھی جو اس اصول کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے انہیں بھاری جرمانوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں:روہت شرما کی ریٹائرمنٹ پر بی سی سی آئی کا مؤقف سامنے آگیا
وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کی طرف سے برقعہ پر پابندی کو اسکولوں اور یونیورسٹیوں تک توسیع دینے کے اقدام کے باوجود ناقدین کا کہنا ہے کہ کلاس رومز میں چہرے کو ڈھانپنے کا استعمال عام نہیں ہے، ممکنہ طور پر اب حکومت کئی ایسی قانون سازی کی تجاویز پیش کرے گی جنہیں انتخابات سے قبل منظور نہیں کیا گیا تھا۔









