بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز میں اختلاف، ملک گیر ہڑتال پر غیر یقینی برقرار

پاکستان بھر میں پیٹرولیم ڈیلرز(Petroleum dealers) اور پمپ مالکان کے درمیان مجوزہ ملک گیر ہڑتال کے معاملے پر اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جس کے باعث ہڑتال کے انعقاد اور اس کے دائرہ کار کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے حق میں غیر معینہ مدت کی ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے، تاہم پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) نے واضح کیا ہے کہ اس نے تاحال ہڑتال کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

پی پی ڈی اے کے مطابق ہڑتال سے متعلق فیصلہ آج (بدھ) کراچی میں ہونے والے مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا، جہاں تمام صورتحال اور حکومتی یقین دہانیوں کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

پیٹرولیم ریٹیل سیکٹر کے مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافِ رائے کے باعث یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ آیا زیادہ منافع (مارجن) کے حصول کے لیے ملک بھر کے پیٹرول پمپ بند کرنا مؤثر حکمت عملی ہوگی یا نہیں۔ یہی اختلافات ہڑتال کی کامیابی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر طارق حسن (Tariq Hassan) نے کہا کہ حکومت نے ڈیلرز کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم متعلقہ حکام نے اس مقصد کے لیے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی ہے تاکہ وزیراعظم سے ضروری منظوری حاصل کی جا سکے۔

مزیدپڑھیں:پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت مانگ لی

انہوں نے بتایا کہ بدھ کو کراچی میں ہونے والے مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں تمام معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور پیٹرولیم ڈیلرز کے بہترین مفاد میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

طارق حسن کا کہنا تھا کہ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مشاورت کیے بغیر ہڑتال کا اعلان کیا، اس لیے فی الحال پی پی ڈی اے اس ہڑتال کا حصہ نہیں بن رہی۔ ان کے بقول اجلاس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ احتجاج کیا جائے یا حکومت کو مزید وقت دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والا حالیہ اجلاس انتہائی مثبت رہا اور حکومتی نمائندوں نے اصولی طور پر ڈیلرز کے مطالبات سے اتفاق کیا ہے، تاہم باضابطہ منظوری کے لیے کچھ مزید وقت درکار ہے۔

پیٹرولیم ڈیلرز کے بنیادی مطالبات میں فی لیٹر کمیشن (مارجن) میں اضافہ، ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے سابقہ طریقہ کار پر نظرثانی اور کاروباری لاگت کے مطابق منافع میں مناسب اضافہ شامل ہیں۔