امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل(Crude Oil) کی قیمتوں میں بدھ کی صبح ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع نے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 50 سینٹ یا 0.55 فیصد اضافے کے ساتھ 91.51 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 30 سینٹ یا 0.36 فیصد بڑھ کر 84.64 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں مزید شدت اختیار کر رہی ہیں۔ امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران میں فوجی اہداف پر مسلسل گیارھویں رات بھی حملے کیے، جبکہ کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی ڈرون حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
منگل کے روز بھی خام تیل کی قیمتیں پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھیں۔ اس دوران امریکی افواج نے جنوبی اور مغربی ایران میں مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
مزیدپڑھیں:ملک گیر پیٹرول پمپ ہڑتال پر ڈیلرز تقسیم، حتمی فیصلہ آج متوقع
ادھر یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے بھی تنازع میں نیا محاذ کھولتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ باب المندب کے راستے سعودی عرب کا تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنائے گا اور سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کرے گا۔ اس اعلان نے عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
بحیرہ احمر کے جنوبی دہانے پر واقع باب المندب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم راستہ بن گیا ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر اب تک امریکا کے 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جو پہلے جاری کیے گئے عوامی تخمینے سے تقریباً 8 ارب ڈالر زیادہ ہیں۔
امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں اضافہ جبکہ پٹرول کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اب سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے سرکاری ذخیرہ جاتی اعداد و شمار پر مرکوز ہے، جو آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔









