بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

فرانس میں نئے تعلیمی سال سے 15 سال سے کم عمر بچوں پر بڑی پابندی عائد

فرانس(France) کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر عمر کی حد مقرر کر دی۔

روئٹرز کے مطابق فرانس کے قانون سازوں نے منگل کے روز 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کی منظوری دے دی۔ دنیا بھر میں کم عمر بچوں کی صحت اور سلامتی پر سوشل میڈیا کے اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں یہ اقدام کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے ساتھ فرانس یورپ کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے آسٹریلیا کی پیروی کی ہے، جہاں فیس بک، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے دنیا کی پہلی پابندی گزشتہ دسمبر میں نافذ ہوئی تھی۔

مصنوعی ذہانت کے امور کی جونیئر وزیر این لی ہیناف نے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’فرانس یورپ کا پہلا ملک بن کر ڈیجیٹل بلوغت کا قانون اپنانے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

پارلیمان کے دونوں ایوانوں، یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی، نے منگل کے روز اس پابندی کی منظوری دے دی۔ فرانسیسی حکومت سوشل میڈیا صارفین کی عمر کی تصدیق کے طریقہ کار پر بھی کام کر رہی ہے۔

مزیدپڑھیں:ورلڈکپ فائنل میں شکست کادرد بہت شدید ہے،لائنل میسی

صدر ایمانوئل میکرون، جنھوں نے اپریل میں نوجوانوں پر زور دیا تھا کہ وہ بہتر شہری بننے کے لیے اپنے موبائل فون بند کریں اور کتابیں پڑھیں، چاہتے ہیں کہ یہ قانون نئے تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے نافذ ہو جائے۔

نئے قانون کے تحت یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا پر نیا اکاؤنٹ نہیں کھول سکیں گے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پہلے سے موجود ایسے اکاؤنٹس بند کرنے کے لیے مزید 4 ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ ان پلیٹ فارمز کے لیے یہ بھی لازم ہوگا کہ وہ عمر کی تصدیق کا ایسا نظام استعمال کریں جسے فرانس کا پرائیویسی ریگولیٹر منظور کرے۔

سوشل میڈیا کمپنیاں عمومی طور پر اس نوعیت کی مکمل پابندیوں کی مخالفت کرتی ہیں اور مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے ان کے پاس پہلے ہی مختلف اقدامات، بشمول عمر کی حد مقرر کرنے کے ضوابط، موجود ہیں۔ تاہم، وہ یہ وعدہ بھی کر چکی ہیں کہ جہاں حکومتیں اس نوعیت کی پابندیاں نافذ کریں گی وہاں وہ ان پر عمل کریں گی۔

یورپی کمیشن بھی نوجوانوں کے تحفظ کے لیے پورے یورپ میں سوشل میڈیا کو ضابطے میں لانے سے متعلق اپنے قواعد و ضوابط پر کام کر رہا ہے، اور وہ یہ بھی جائزہ لے گا کہ آیا فرانس کا یہ قانون موجودہ یورپی قانون سازی سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔

اپریل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میکرون نے نوجوانوں سے کہا تھا ’’ہم نے آپ کو اس جنگل میں چھوڑ دیا، اور اس نے آپ کی توجہ اور ارتکاز چھین لیا۔‘‘ ان کا اشارہ سوشل میڈیا کے حوالے سے قواعد و ضوابط کی کمی کی طرف تھا۔ انھوں نے مزید کہا ’’ہمیں رفتار کم کرنے کی ضرورت ہے اور آپ کی مدد کرنی چاہیے تاکہ آپ بالغ بن سکیں، اور سب سے بڑھ کر اچھے شہری۔‘‘

انھوں نے کہا ’’اسی لیے ہم یہ کرنا چاہتے ہیں کہ 15 سال کی عمر سے پہلے سوشل میڈیا استعمال نہ کیا جائے۔‘‘