اسلام آباد: لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے گزشتہ دو برس کے دوران مالی اور انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مالی خسارے میں غیر معمولی کمی کر دی ہے۔ کمپنی نے نیپرا سے متعلق خسارے کو 79 ارب روپے سے کم کر کے تقریباً 21 ارب روپے تک محدود کر دیا، جس سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 58 ارب روپے سے زائد کا مالی فائدہ پہنچا۔
اسی عرصے میں لیسکو کی ریکوری پہلی مرتبہ 101.05 فیصد تک پہنچ گئی، جو نیپرا کے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ ہے، جبکہ لائن لاسز 15.8 فیصد سے کم ہو کر 11.86 فیصد رہ گئے۔ صرف دو سال میں تقریباً چار فیصد کمی پاکستان کی کسی بھی بجلی تقسیم کار کمپنی کی جانب سے حاصل کی جانے والی ایک نمایاں کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
لیسکو، جو ملک کی سب سے بڑی بجلی تقسیم کار کمپنی ہے، سالانہ ایک کھرب روپے سے زائد آمدن رکھتی ہے۔ حکام کے مطابق لائن لاسز میں ہر ایک فیصد کمی سے تقریباً 10 ارب روپے کی مالی بچت ممکن ہوتی ہے، جبکہ حالیہ چار فیصد کمی بجلی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے لیسکو کی کامیابی کو مؤثر نگرانی، شفاف احتساب اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے، بجلی چوری کی روک تھام، ریکوری میں اضافے اور لائن لاسز میں کمی کے لیے اصلاحاتی اقدامات مسلسل جاری رہیں گے۔
مزید پڑھیں:غزہ، حماس سمیت تمام گروہوں کو غیر مسلح کرنیکامعاہدہ طے پا گیا، ٹرمپ
وزارت توانائی کے مطابق لیسکو کی بہتر کارکردگی وزیراعظم شہباز شریف کے وژن، مؤثر پالیسی سازی، پیشہ ورانہ بورڈ آف ڈائریکٹرز، نیٹ ورک کی جدید کاری، ڈیجیٹل نظام، مستقل نگرانی اور صارف دوست اصلاحات کا نتیجہ ہے، جو بجلی کے شعبے میں مالی استحکام اور گردشی قرضوں میں کمی کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو رہی ہیں۔









