بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

شام کے سابق صدر بشار الاسد کو ساتھیوں سمیت سزائے موت سُنا دی گئی

شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد(Bashar al-Assad)، ان کے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور اُن کے دور کے سیکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنا دی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق بشار الاسد اور ان کے ساتھیوں کے خلاف یہ فیصلہ منگل کے روز سنایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقدمہ شام میں گزشتہ 14 سال سے جاری رہنے والے تنازع سے متعلق ہے، جس میں تقریباً 5 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عدالت نے بشار الاسد اور ان کے بھائی ماہر الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی۔ دونوں دسمبر 2014 میں باغی جنگجوؤں کے دمشق میں داخل ہونے کے بعد شام سے فرار ہو کر روس چلے گئے تھے۔

اسی مقدمے میں بشار الاسد دور کے سیکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی سزائے موت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نجیب پر الزام تھا کہ انہوں نے 2011 میں جنوبی صوبے درعا میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کارروائی کی قیادت کی تھی۔ یہی کارروائی بعد میں بڑے پیمانے پر عوامی بغاوت اور پھر خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔

عدالت میں عاطف نجیب کو سخت سیکیورٹی کے درمیان قیدیوں کے لباس میں ایک چھوٹے پنجرے کے اندر کھڑا کیا گیا تھا۔ اس دوران جج نے ان کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

عاطف نجیب شام کی فوج میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ 2011 میں وہ بشار الاسد کے دورِ حکومت میں درعا صوبے کی سیاسی سیکیورٹی برانچ کے سربراہ تھے۔

مزیدپڑھیں:یوٹیوب نے کمائی کا قانون مزید سخت کر دیا، واچ ٹائم کی شرط دگنی

بعد میں انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا اور وہ بشار الاسد حکومت کے ان اعلیٰ عہدیداروں میں شامل ہوئے تھے جنہیں عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

شام میں 2011 میں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک نے چند ہی عرصے میں ایک طویل اور خونریز جنگ کی شکل اختیار کرلی تھی۔ اس تنازع کے دوران لاکھوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ کروڑوں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ بشار الاسد کئی برس تک شام کے صدر رہے، تاہم باغی جنگجوؤں کی دمشق تک پیش قدمی کے بعد وہ اقتدار سے محروم ہوگئے اور روس چلے گئے تھے۔

8 دسمبر 2024 کو شام کے باغیوں نے دمشق پر قبضہ اور صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔

شامی باغی دمشق پر قبضہ کرنے کے بعد سرکاری ٹی وی، ریڈیو اور وزارتِ دفاع کی عمارتوں میں داخل ہو گئے تھے جس کے بعد سرکاری فوج کی جانب سے علاقہ چھوڑنے پر لوگوں نے سڑکوں پر جشن منایا تھا۔

اس موقع پر باغیوں کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم محمد الجلالی پُرامن انتقالِ اقتدار تک تمام ریاستی اداروں کو چلائیں گے۔

یاد رہے کہ شام میں اسد خاندان کے سربراہ حافظ الاسد نے سن 1971 سے 2000 تک حکومت کی اور پھر بشار الاسد نے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد جولائی 2000 سے اقتدار سنبھال لیا تھا۔