دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے الیکٹرک طیارے(electric Plane) نے پہلی مرتبہ کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی، جسے ماحول دوست ہوابازی کی صنعت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق سویڈن میں قائم اور امریکا میں کام کرنے والی کمپنی ہارٹ ایرو اسپیس نے 12 اگست 2026 کو نیویارک کے پلاٹس برگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنے مکمل جسامت والے ایکس ون طیارے کو پہلی بار فضا میں اڑایا۔
کمپنی کے مطابق طیارہ تقریباً 27 منٹ تک فضا میں رہا اور اس دوران 335 میٹر یعنی تقریباً 1100 فٹ کی بلندی تک پہنچا۔ 11 ٹن سے زیادہ وزن رکھنے والے اس طیارے میں بیٹری سے چلنے والے چار برقی موٹرز نصب ہیں، جو ایک میگاواٹ سے زیادہ طاقت پیدا کرتی ہیں۔
اس آزمائشی پرواز کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ طیارے نے تقریباً 5 ڈالر کی بجلی استعمال کی۔ تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف اس پرواز میں استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت ہے۔ اس میں پائلٹ، ایئرپورٹ فیس، انشورنس، بیٹری کی قیمت یا طیارے کے دیگر اخراجات شامل نہیں ہیں۔
مزیدپڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ کی مکہ دفاعی معاہدے کی حمایت، وزیرِاعظم شہبازشریف کا خیر مقدم
ایکس ون دراصل مسافروں کو لے جانے کے لیے تیار کیا جانے والا حتمی طیارہ نہیں بلکہ ایک تجرباتی طیارہ ہے۔ اسے اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ کمپنی بیٹری، برقی موٹرز، طیارے کے دیگر نظام اور تیاری کے طریقوں کو حقیقی پرواز میں جانچ سکے۔
ہارٹ ایرو اسپیس کا اصل ہدف 30 نشستوں والا ای ایس-30 علاقائی طیارہ تیار کرنا ہے۔ کمپنی کے منصوبے کے مطابق ای ایس-30 تقریباً 200 کلومیٹر تک مکمل طور پر بجلی سے پرواز کر سکے گا، جبکہ ہائبرڈ نظام کے ذریعے اس کی پرواز کی حد 800 کلومیٹر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
The world’s largest electric aircraft took to the skies for the first time — the flight cost just $5
US company Heart Aerospace has flown its full-scale electric aircraft X1 for the first time — the largest all-electric aircraft ever to take flight.
The test flight lasted 27… pic.twitter.com/VnKcZZwyGR
— NEXTA (@nexta_tv) August 16, 2026
2026 میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے ایکس ون کو خصوصی پرواز کا سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس کے بعد کمپنی کو اس کی آزمائشی پرواز شروع کرنے کی اجازت ملی۔
اب کمپنی کا اگلا بڑا ہدف ای ایس-30 کے پری پروڈکشن مرحلے کی پروازیں شروع کرنا ہے۔ ہارٹ ایرو اسپیس 2028 میں مزید بڑے آزمائشی مراحل کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جبکہ ای ایس-30 کو 2031 کے قریب سروس میں شامل کرنے اور اس کی باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق ایکس ون کی پہلی پرواز کا مقصد فوری طور پر بڑے مسافر طیاروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کو عملی طور پر آزمانا ہے جو مستقبل میں علاقائی ہوابازی کو تبدیل کرسکتی ہے۔
ماہرین کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت اس بات میں ہے کہ پہلی بار 11 ٹن سے زیادہ وزن رکھنے والا اور 32 میٹر پروں کے پھیلاؤ والا بیٹری سے چلنے والا طیارہ مکمل جسامت میں فضا میں گیا ہے۔ اس پرواز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کے برقی اور ہائبرڈ طیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا۔
اگر کمپنی اپنے منصوبے کے مطابق کامیاب ہوتی ہے تو مستقبل میں مختصر فاصلے کے فضائی سفر کے لیے ایسے طیارے سامنے آ سکتے ہیں جو روایتی ایندھن کے بجائے بجلی استعمال کریں گے اور فضائی آلودگی میں کمی کا باعث بنیں گے۔
تاہم تجارتی سطح پر اس ٹیکنالوجی کے کامیاب ہونے کے لیے بیٹری کی صلاحیت، پرواز کی حد، چارجنگ کے نظام اور مسافروں کے ساتھ طویل مدتی آپریشن جیسے کئی مراحل ابھی باقی ہیں۔









