بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سعودی عرب اور فرانس کے درمیان سرمایہ کاری شراکت داری مزید مضبوط، وژن 2030 کے تحت نئے مواقع پیدا ہونے لگے

پیرس: سعودی عرب(Saudiarabia) اور فرانس(France) نے سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے شعبوں میں اپنی شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت میں جاری معاشی تبدیلی نے فرانسیسی کمپنیوں کے لیے توانائی، ٹیکنالوجی، صنعت، مالیاتی خدمات، سیاحت، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کردیے ہیں۔

سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے فرانس کے دورے کے موقع پر پیرس میں فرانسیسی-سعودی سرمایہ کاری گول میز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، کاروباری شخصیات اور بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا، نجی شعبے کے درمیان تعاون بڑھانا اور سعودی عرب میں جاری معاشی تبدیلی کے عمل میں فرانسیسی کمپنیوں کے کردار کو مزید وسعت دینا تھا۔

سعودی وزیر سرمایہ کاری فہد بن عبدالجلیل السیف (Fahad bin Abduljalil Al-Saif) نے کہا کہ سعودی عرب اور فرانس کے تعلقات ایک صدی پر محیط ہیں اور اب اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فرانس کی ٹیکنالوجی، صنعت، مالیات اور جدت کے شعبوں میں مہارت اور سعودی وژن 2030 کے بلند اہداف ایک دوسرے کے لیے تکمیلی حیثیت رکھتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی سرمایہ کاری شراکت داری کے وسیع امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

سعودی عرب میں فرانسیسی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

سعودی وزیر سرمایہ کاری کے مطابق سعودی عرب میں فرانسیسی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا مجموعی ذخیرہ 2024 میں 16.3 ارب یورو تک پہنچ گیا، جو گزشتہ پانچ سال کے مقابلے میں دوگنا ہے۔

فرانس اب سعودی عرب میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا چوتھا بڑا ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ فرانسیسی سرمایہ کار مملکت کے 18 مختلف شعبوں میں 650 سے زائد سرمایہ کاری لائسنس حاصل کرچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وژن 2030 کے تحت سعودی عرب دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی جی 20 معیشتوں میں شامل ہوگیا ہے۔ 2017 کے بعد سے ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 85 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ غیر تیل شعبوں کا حصہ اب ملکی جی ڈی پی کے نصف سے زیادہ ہوچکا ہے۔

سعودی عرب میں 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 6.1 ارب یورو رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 2.4 فیصد زیادہ ہے۔

فرانسیسی سرمایہ کاروں کے لیے اہم شعبے

سعودی وزیر نے فرانسیسی سرمایہ کاروں کے لیے توانائی، مالیاتی خدمات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جدید مینوفیکچرنگ، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، گیمنگ اور سیاحت سمیت متعدد شعبوں کو نمایاں مواقع کا حامل قرار دیا۔

توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان روایتی توانائی، پیٹروکیمیکلز اور صاف توانائی کے میدان میں تعاون بڑھ رہا ہے۔ سعودی وزیر کے مطابق فرانسیسی کمپنیاں قابل تجدید توانائی اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی جانب سعودی عرب کی منتقلی میں بھی فعال کردار ادا کررہی ہیں۔

مزیدپڑھیں:گرل فرینڈ کے 3 ہزار 400 ’بوسے‘ عاشق کو مہنگے پڑگئے، پولیس نے چالان کرکے گاڑی دھلوا دی

مالیاتی شعبے کو بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم میدان کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ سعودی عرب اپنے مالیاتی نظام کو مزید گہرا اور وسیع کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

فہد السیف نے کہا کہ سعودی ایکسچینج مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فعال اسٹاک مارکیٹ ہے، جس سے مالیاتی شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع مزید بڑھتے ہیں۔

گیمنگ اور ای اسپورٹس میں بھی بڑے مواقع

سعودی عرب میں گیمنگ اور ای اسپورٹس کے تیزی سے ترقی کرتے شعبے کو بھی فرانسیسی سرمایہ کاروں کے لیے اہم موقع قرار دیا گیا۔

سعودی وزیر کے مطابق مملکت کی نوجوان اور گیمنگ میں بھرپور دلچسپی رکھنے والی آبادی دانشورانہ ملکیت (IP) کی تیاری، مواد کی تخلیق، خصوصی نوعیت کی ملازمتوں اور عالمی سطح پر مسابقتی کمپنیوں کے قیام کے لیے ایک مضبوط مارکیٹ فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں سعودی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان تعاون سے نئی ٹیکنالوجیز، تخلیقی صنعتوں اور عالمی سطح پر مسابقتی کاروباری اداروں کی تشکیل کے امکانات موجود ہیں۔

750 سے زائد عالمی کمپنیوں نے ریجنل ہیڈکوارٹر قائم کیے

فہد السیف نے سعودی عرب کے ریجنل ہیڈکوارٹر پروگرام (Regional Headquarters Program) کو بھی نمایاں کیا، جس کے تحت 750 سے زائد کمپنیوں نے مملکت میں اپنے علاقائی ہیڈکوارٹر قائم کیے ہیں۔

ان میں 39 فرانسیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو 8 مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی کابینہ کی جانب سے آف شور مالیاتی سرگرمیوں کی حالیہ منظوری سے بھی سعودی عرب کی حیثیت بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے ایک علاقائی کاروباری پلیٹ فارم کے طور پر مزید مضبوط ہوگی۔

فرانس نے سعودی عرب کو قابل اعتماد شراکت دار قرار دے دیا

فرانس کے وزیر اقتصادیات و خزانہ رولان لیسکیور (Roland Lescure) نے بھی سعودی عرب اور فرانس کے تعلقات کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ توانائی اور لاجسٹکس کا تحفظ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کے اہم ستون ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے جبکہ جغرافیائی اعتبار سے مملکت مشرق وسطیٰ کو یورپ سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

رولان لیسکیور نے سعودی وژن 2030 اور فرانس 2030 کے درمیان پائی جانے والی مماثلت کو بھی نمایاں کیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب میں فرانسیسی کمپنیوں کی موجودگی اب محض مصنوعات فروخت کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ مشترکہ پیداوار اور گہری صنعتی شراکت داری تک پھیل چکی ہے۔

نجی شعبے کے درمیان تعاون پر تفصیلی بات چیت

سرمایہ کاری گول میز کانفرنس میں ’’سعودی عرب اور فرانس: مستقبل کے لیے شراکت داری‘‘ کے عنوان سے خصوصی نشست بھی ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

کاروباری رہنماؤں نے بڑے ترقیاتی اور تبدیلی کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، صنعتی شراکت داری کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے نیٹ ورکس کو ترقی دینے اور مصنوعی ذہانت (AI) و ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

دوطرفہ تجارت 44.2 ارب ریال تک پہنچ گئی

اجلاس میں سعودی عرب اور فرانس کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کی بھی عکاسی ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2025 میں 44.2 ارب سعودی ریال تک پہنچ گئی۔

سعودی عرب میں فرانسیسی براہ راست سرمایہ کاری کا مجموعی ذخیرہ 2024 میں 63.9 ارب سعودی ریال رہا، جو 2021 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

سعودی وژن 2030 اب اپنے حتمی تکمیل کے مرحلے میں داخل ہورہا ہے، ایسے میں پیرس میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس نے اس بات کو نمایاں کیا کہ فرانسیسی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب کی معاشی تبدیلی میں شمولیت کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان اعلیٰ قدر رکھنے والی اور طویل المدتی سرمایہ کاری شراکت داری توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی، مالیات، سیاحت، لاجسٹکس اور ڈیجیٹل معیشت سمیت متعدد شعبوں میں سعودی عرب کی معاشی تبدیلی کو مزید تیز کرسکتی ہے