بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا نے دنیا بھر میں ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) کی انتظامیہ نے دنیا بھر سے ویزا درخواست دینے والے افراد کی اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دنیا بھر میں موجود امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں عملے کی تربیت کا عالمی پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے باعث ویزا سروسز کی اپائنٹمنٹس میں تبدیلی کی جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ تمام امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں تربیتی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ تاہم محکمہ خارجہ نے تربیت کی مزید تفصیلات یا اس کی مدت کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کیں۔

محکمہ خارجہ کے مطابق تربیت کا مقصد قونصلر افسران کو ایسے درخواست گزاروں کی نشاندہی میں مدد دینا ہے جو امریکا کے عوامی فلاحی پروگراموں پر انحصار کرنے کا امکان رکھتے ہوں۔ اس کے علاوہ ویزا درخواست گزاروں کی جامع اور یکساں انداز میں جانچ یقینی بنانا بھی تربیت کے مقاصد میں شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق امیگرنٹ ویزا کے لیے پہلے سے طے شدہ انٹرویوز رکھنے والے درخواست گزاروں کو امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کی جانب سے ای میلز موصول ہوئی ہیں، جن میں انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی اپائنٹمنٹس دوبارہ مقرر کی جارہی ہیں اور نئی تاریخ سے متعلق بعد میں اطلاع دی جائے گی۔

مزیدپڑھیں:ایرانی ریال کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح پر ، ایک ڈالر 20 لاکھ20ہزار ریال سے تجاوز کرگیا

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران امریکی حکومت نے امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔ ان اقدامات میں ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر درخواستیں مسترد کرنا شامل ہے۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے خلاف کارروائیوں کا مقصد ملک کی داخلی سلامتی بہتر بنانا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو قانونی محاذ پر بھی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ 22 اگست کو ایک امریکی جج نے 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ معطل کرنے کی انتظامی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ یہ پالیسی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیار سے تجاوز کرتی ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے امتیازی قرار دیا ہے۔ حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے آزادی اظہار اور قانونی طریقہ کار کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں جبکہ بعض نسلی اقلیتوں کو نسلی بنیاد پر جانچ پڑتال کے خدشات بھی لاحق ہیں۔

صدر ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی امیگریشن روکنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں بعض ورک ویزا درخواست گزاروں پر نئی اور بھاری فیسیں عائد کرنا بھی شامل ہے۔