نادرا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے درمیان سمز کے اجرا کے لیے چہرے کی شناخت پر مبنی تصدیق (Facial Recognition) کے طریقہ کار پر اختلاف شدت اختیار کرگیا ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) نے اپنی PakID ایپ کو سموں کے اجرا کے لیے فیشل ویری فکیشن کے پلیٹ فارم کے طور پر دستیاب کرانے سے انکار کردیا ہے، حالانکہ 2025 میں نادرا نے خود اس سہولت کے لیے PakID ایپ استعمال کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن کو جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق نادرا اس معاملے پر پی ٹی اے کے ساتھ رابطے میں رہا اور موبائل فون آپریٹرز (CMOs) کی جانب سے فیشل ریکگنیشن کے ذریعے سم تصدیق کا ایک پروف آف کانسیپٹ (Proof of Concept) بھی مکمل کیا جاچکا ہے۔
تاہم نادرا نے پی ٹی اے کے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے کہ اس نے فیشل ویری فکیشن ٹیکنالوجی سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نادرا کے مطابق اس نے 2025 میں سموں کے اجرا کے لیے PakID ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت کی تجویز دی تھی اور موبائل آپریٹرز نے اس کا عملی جائزہ بھی مکمل کیا تھا۔
نادرا کا کہنا ہے کہ فیشل ویری فکیشن سے دستبرداری نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے، بلکہ ادارے نے صرف دونوں اداروں کی ذمہ داریوں کو واضح کیا ہے۔
اصل تنازع ٹیکنالوجی نہیں، اختیار کا ہے
نادرا کے مطابق اس پورے معاملے میں بنیادی اختلاف اس بات پر نہیں کہ چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کام کرتی ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ بائیومیٹرک ڈیٹا کس مقام پر حاصل کیا جائے گا، آلات اور متعلقہ ماحول کا کنٹرول کس ادارے کے پاس ہوگا اور سم کی تصدیق کے پورے عمل کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔
نادرا نے واضح کیا کہ اس نے کبھی یہ تجویز نہیں دی تھی کہ PakID ایپ ہی سم جاری کرنے یا صارف کی رجسٹریشن کا باقاعدہ پلیٹ فارم بنے۔ اس کے مطابق PakID کو صرف ایک ایسے ذریعے کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کے ذریعے شہری نادرا کے ملٹی بائیومیٹرک ویری فکیشن سسٹم (MBVS) سے فیشل ویری فکیشن کا نتیجہ حاصل کرسکتے ہیں، جسے بعدازاں متعلقہ ریگولیٹڈ ادارہ استعمال کرسکتا ہے۔
نادرا کے مطابق اس کی ابتدائی تجاویز میں یہ آپشن بھی موجود تھا کہ بینک اور ٹیلی کام کمپنیاں مناسب آلات نصب کرکے اپنے مراکز اور آؤٹ لیٹس پر براہ راست چہرے یا آنکھ کی پتلی (Iris) کی بائیومیٹرک تصدیق کرسکیں۔
سم تصدیق میں اداروں کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی؟
نادرا کا کہنا ہے کہ موجودہ ضوابط کے تحت سم کے اجرا کے لیے مطلوبہ تصدیقی شرائط طے کرنا پی ٹی اے کی ذمہ داری ہے، جبکہ نادرا شناخت کی تصدیق کی سروس فراہم کرے گا اور اس مقصد کے لیے تکنیکی اور سیکیورٹی معیارات مقرر کرے گا۔
مزیدپڑھیں:زیرِ التوا نیٹ میٹرنگ کیسز فوری نمٹانے کا حکم
اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو سم جاری کرنے کے لیے PakID ایپ کو لازمی پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
نادرا کے مطابق موبائل آپریٹرز اپنے سم سیل مراکز، فرنچائزز، ملازمین، ایپلی کیشنز اور صارفین کے ساتھ براہ راست رابطے کو کنٹرول کرتے ہیں، اس لیے بائیومیٹرک ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات کی نگرانی اور سیکیورٹی کی ذمہ داری بھی آپریٹرز کے پاس ہونی چاہیے۔
مجوزہ طریقہ کار کے تحت صارف کا بائیومیٹرک ڈیٹا موبائل آپریٹر کے مرکز پر حاصل کیا جائے گا، اسے محفوظ طریقے سے آپریٹر کے ڈیٹا سینٹر تک منتقل کیا جائے گا اور بعدازاں تصدیق کے لیے نادرا کو بھیجا جائے گا۔
موبائل کمپنیوں کو بائیومیٹرک ڈیٹا محفوظ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی
نادرا نے واضح کیا ہے کہ اگر موبائل آپریٹرز اپنے آلات استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں صارفین کا بائیومیٹرک ڈیٹا محفوظ کرنے یا اپنی بائیومیٹرک ڈیٹا بیس بنانے کی اجازت مل جائے گی۔
ادارے کے مطابق آپریٹر کی ملکیت میں موجود بائیومیٹرک کیپچر آلات صرف ڈیٹا حاصل کرنے اور اسے محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوں گے۔
ضوابط کے تحت بائیومیٹرک معلومات صرف عارضی طور پر حاصل کرکے محفوظ طریقے سے نادرا کو منتقل کی جاسکیں گی، جبکہ فیشل ریکگنیشن آلات میں بائیومیٹرک ڈیٹا یا اس سے متعلقہ ٹیمپلیٹس محفوظ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈیپ فیک اور جعلی بائیومیٹرک شناخت سے بچاؤ ضروری
نادرا نے فیشل ویری فکیشن نظام میں سیکیورٹی کے حوالے سے بھی متعدد خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ ادارے کے مطابق نئے نظام میں ڈیپ فیک (Deepfake)، بائیومیٹرک متبادل، چہرے کی مورفنگ (Morphing) اور فیشل ویری فکیشن کو دھوکا دینے کی دیگر کوششوں کے خلاف مؤثر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
نادرا کا کہنا ہے کہ اگرچہ موبائل آپریٹرز کو اپنا انفراسٹرکچر نصب کرنا ہوگا، لیکن اس ماڈل سے ملک بھر میں نظام کی توسیع مشکل نہیں ہوگی۔
بلکہ اس طریقہ کار کے ذریعے موبائل کمپنیاں اپنی فرنچائزز، سروس سینٹرز اور موبائل ایپلی کیشنز میں فیشل ویری فکیشن کو شامل کرسکیں گی اور ہر سم ٹرانزیکشن کو PakID ایپ سے منسلک کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
نادرا کے مطابق اس نظام کا ڈھانچہ ملک گیر عمل درآمد میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ ذمہ داری، سیکیورٹی، ملکیت اور نظام کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کے لیے واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
چھ ماہ تک کا وقت دیا جاسکتا ہے
متعلقہ ضوابط کے تحت نادرا کو ریگولیٹر سے مشاورت کے بعد نئے نظام پر عمل درآمد کے لیے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک کی تعمیلی مدت مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
نادرا کے مطابق وہ بیک اینڈ ویری فکیشن سسٹم، محفوظ APIs اور تکنیکی معیارات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں تصدیق کے تقاضے پی ٹی اے طے کرے گا اور موبائل آپریٹرز مطلوبہ انفراسٹرکچر نصب کریں گے۔
پی ٹی اے کا مؤقف
دوسری جانب پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ وہ ٹیلی کام انڈسٹری کے ساتھ مل کر نادرا کی تجویز کے تکنیکی اور ریگولیٹری پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔
یہ جائزہ نادرا کے ’’Requisite Access to National Data Warehouse‘‘ ضوابط کے تحت لیا جارہا ہے، جنہیں 28 جولائی 2026 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں فیشل ریکگنیشن کے ذریعے سم تصدیق کے لیے دیگر آپشنز بھی تلاش کیے جارہے ہیں۔
ایک موبائل آپریٹر پہلے ہی اپنی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے فیشل ریکگنیشن متعارف کرانے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق اس تجویز کی تکنیکی قابلِ عملیت کا جائزہ لیا جارہا ہے اور اس کے بعد اس حوالے سے پروف آف کانسیپٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔
موبائل فون ٹیکس پر بھی پی ٹی اے کی وضاحت
پی ٹی اے نے موبائل فونز پر عائد ٹیکسز سے متعلق اپنے کردار کی بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ذمہ داری صرف موبائل ڈیوائسز کی تکنیکی جانچ تک محدود ہے۔
موبائل فونز پر ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کرنا، ان کا تعین اور وصولی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی ذمہ داری ہے۔
پی ٹی اے نے موبائل فونز پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کو منطقی بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اسمارٹ فونز کو زیادہ قابلِ استطاعت بنانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے، غیر قانونی درآمدات کی حوصلہ شکنی اور آئی ایم ای آئی (IMEI) میں ردوبدل جیسے غیر قانونی طریقوں کی روک تھام کے درمیان توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
مجموعی طور پر نادرا اور پی ٹی اے کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ادارے فیشل ویری فکیشن کے بنیادی تصور کے مخالف نہیں، بلکہ اس کے عملی نفاذ، اختیار، آلات کے کنٹرول اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ادارے ضوابط اور ذمہ داریوں کو واضح کرکے ایک ایسا قابلِ عمل نظام وضع کریں جس میں سموں کے اجرا کا عمل تیز بھی ہو، صارفین کی شناخت محفوظ بھی رہے اور بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال یا غیر قانونی ذخیرہ کرنے کا خطرہ بھی ختم کیا جاسکے۔









