بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

متنازع ٹیلی کام بل سینیٹ سے واپس لے لیا گیا

حکومت نے پارلیمنٹ(Senate of pakistan) کے ایوانِ بالا سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل 2026 واپس لے لیا۔

وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے سینیٹ کے 363ویں اجلاس کے آخری روز بل کی واپسی کے لیے ایک تحریک پیش کی۔

شزا فاطمہ خواجہ اجلاس میں موجود نہیں تھیں۔

ایوان کی طرف سے قرارداد کی منظوری کے بعد بل واپس لے لیا گیا۔

رواں سال 15 جون کو وزیرِ آئی ٹی نے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا تھا۔

بل کے ذریعے حکومت کو یہ اختیار دینے کی تجویز دی گئی تھی کہ وہ کسی بھی ایسے مالک لیز دار، کرایہ دار یا ادارے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرسکے جو ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کے لائسنس یافتہ ادارے کو حقوق دینے میں رکاوٹ ڈالے یا تاخیر کرے۔

بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

مزیدپڑھیں:لاہور سے راولپنڈی جانے والی ریل کار حادثے کا شکار

اس سے قبل قومی اسمبلی یہ بل پہلے ہی منظور کرچکی تھی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل 2026 کے ذریعے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 میں ترمیم کی تجویز دی گئی تھی، جس کے تحت دفعہ 27B شامل کی جانی تھی۔ اس دفعہ میں کہا گیا تھا کہ ’’متعلقہ حکومت کسی بھی ایسے مالک، لیز دار، کرایہ دار یا ادارے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرسکتی ہے جو ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کے لائسنس یافتہ ادارے کو حق دینے میں رکاوٹ ڈالے یا تاخیر کرے۔