بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

روزانہ میٹھے مشروبات پینے سے معدے کے کینسر کا خطرہ دگنا ہو سکتا ہے، تحقیق

اگر آپ روزانہ اضافی میٹھے یا شکر والے مشروبات(Drinks) پینےکے شوقین ہیں تو یہ تحقیق آپ کے لیے اہم ہے، کیونکہ اس میں میٹھے مشروبات کے استعمال سے وابستہ صحت کے ممکنہ خطرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں میٹھے مشروبات کے حوالے سے تشویش ناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ میٹھے مشروبات پینے سے معدے کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ دگنا ہو سکتا ہے، تاہم مصنوعی مٹھاس سے تیار کیے جانے والے مشروبات میں ایسا خطرہ سامنے نہیں آیا۔

جریدے گیسٹرو ہیپ ایڈوانس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مشروبات میں شکر کے استعمال سے معدے کے کینسر کا خطرہ دگنے سے بھی زیادہ بڑھ سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ سابقہ مطالعات میں پہلے ہی چینی سے میٹھے کیے گئے مشروبات کو بڑی آنت، چھاتی اور جگر کے کینسر کی شرح میں اضافے سے منسلک کیا جا چکا ہے، تاہم معدے کے کینسر سے متعلق شواہد اب تک محدود تھے۔

تحقیق کے مطابق روزانہ کم از کم ایک میٹھا مشروب پینے والے افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں دگنا تھا جو ماہانہ ایک مرتبہ سے بھی کم ایسا مشروب پیتے تھے۔

تحقیق کے مصنف اینڈریو چان نے کہا ہے کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں امریکی آبادی میں چینی سے میٹھے مشروبات کے استعمال اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ معدے کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی پانچویں بڑی وجہ ہے، تاہم اس بارے میں بہت کم معلومات ہیں کہ غذا اس بیماری کے خطرے میں کس طرح کردار ادا کر سکتی ہے۔

مزیدپڑھیں:باب وولمر نے محمد آصف کے بارے میں کیا پیش گوئی کی تھی؟

تحقیق میں 1 لاکھ 12 ہزار افراد کو کئی دہائیوں تک زیرِ مطالعہ رکھا گیا، جس کے دوران 278 افراد میں معدے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔

تحقیق میں شامل زیادہ تر میٹھے مشروبات میں فرکٹوز استعمال کیا گیا تھا اور شرکاء میں فرکٹوز سے میٹھے مشروبات کا استعمال معدے کے کینسر کی زیادہ شرح سے منسلک پایا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد روزانہ تقریباً 1 سے زیادہ چینی سے میٹھے مشروبات، مثلاً سافٹ ڈرنکس، لیمونیڈ یا اسپورٹس ڈرنکس کا استعمال کرتے تھے، ان میں معدے کے کینسر کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ تھا جو جو ایسے مشروبات شاذ و نادر ہی استعمال کرتے تھے۔

اس کے برعکس، زیادہ مقدار میں مصنوعی مٹھاس یا کم کیلوری والے کاربونیٹڈ مشروبات پینے والے افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ زیادہ نہیں پایا گیا۔

محققین نے نشاندہی کی ہے کہ ہیلیکوبیکٹر پائلوری (H. pylori) نامی جرثومے کا انفیکشن معدے کے کینسر کے خطرے میں اضافے کا باعث بنتا ہے، تاہم تحقیق میں شامل ان شرکاء کے ذیلی گروپ میں جن کا جائزہ لیا گیا، چینی سے میٹھے مشروبات کے استعمال اور H. pylori انفیکشن کے درمیان کوئی تعلق نہیں پایا گیا۔

محققین نے کہا ہے کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ میٹھے مشروبات براہِ راست معدے کے کینسر کا سبب بنتے ہیں۔

محققین کے مطابق تحقیق میں شرکاء کے ایچ پائیلوری انفیکشن کی کیفیت اور خاندان میں معدے کے کینسر کی تاریخ سے متعلق اعداد و شمار بھی محدود تھے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس خطرے میں اضافے کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں وزن میں اضافہ، انسولین کے خلاف مزاحمت میں اضافہ، ہارمونز میں عدم توازن اور جسم میں سوزش شامل ہیں۔