ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ شاہی محل کے مطابق انہوں نے جمعہ 28 اگست کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 35 منٹ پر اوسلو یونیورسٹی اسپتال میں پُرسکون طور پر آخری سانس لی۔ ان کی وفات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ناروے(Norway) کا شاہی خاندان کئی مشکلات اور عوامی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
بادشاہ ہیرالڈ یورپ کے سب سے معمر حکمران تھے۔ انہیں 17 اگست کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں شاہی محل کے مطابق خون میں موجود بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کا علاج کیا جا رہا تھا۔
گزشتہ برسوں میں ہیرالڈ کو صحت کے کئی مسائل کا سامنا رہا۔ 2024 میں ملائیشیا میں چھٹیوں کے دوران وہ ایک انفیکشن کے باعث اسپتال میں داخل ہوئے تھے، جہاں انہیں عارضی پیس میکر لگایا گیا۔ بعد میں ناروے کی مسلح افواج کے ذریعے انہیں وطن واپس لایا گیا اور مستقل پیس میکر نصب کیا گیا۔
اسی سال ہیرالڈ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی صحت کے باعث سرکاری تقریبات میں شرکت کم کریں گے، تاہم انہوں نے تخت سے دستبردار ہونے کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بادشاہ کی حیثیت سے انہوں نے جو حلف اٹھایا ہے، وہ زندگی بھر کے لیے ہے۔
ان کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد دارالحکومت اوسلو میں بڑی تعداد میں لوگ شاہی محل کے باہر جمع ہوئے اور پھول رکھ کر بادشاہ کو خراج عقیدت پیش کیا۔
حکومت نے بھی بادشاہ کی آخری رسومات مکمل ہونے تک ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا۔ ناروے کے سیاست دانوں، یورپ کے دیگر شاہی خاندانوں اور معروف فٹبالر ارلنگ ہالینڈ سمیت متعدد شخصیات نے ہیرالڈ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا۔
ہیرالڈ کے 53 سالہ بیٹے ہاکون اب ناروے کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں، جبکہ ہاکون کی 22 سالہ بیٹی انگریڈ الیگزینڈرا ولی عہد شہزادی کا منصب سنبھالیں گی۔
ہیرالڈ کی وفات ناروے کے شاہی خاندان کے لیے ایک مشکل دور میں ہوئی ہے۔ ان کی بہو میٹے میریٹ، جو ہاکون سے شادی کے بعد نئی ملکہ بنیں گی، امریکی بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے اپنی دوستی کے باعث شدید عوامی توجہ اور تنقید کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس تعلق پر معذرت بھی کی ہے۔
میٹے میریٹ کے بیٹے ماریئس ہوئیبی کو جون میں چار میں سے دو ریپ کے الزامات اور گھریلو تشدد کے ایک الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ سات ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد اسے چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم ماریئس اور استغاثہ دونوں نے سزا کے خلاف اپیل کی ہے۔
مزیدپڑھیں:جنوبی کوریا کا 52 ملین شہریوں کو مفت ’چیٹ جی پی ٹی‘ سہولت فراہم کرنے کا تاریخی فیصلہ
ماریئس کی سزا کے اعلان کے دو روز بعد شاہی محل نے بتایا تھا کہ میٹے میریٹ کا پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ ہوا ہے، تاہم اس نے آپریشن کی تاریخ ظاہر نہیں کی۔ کئی ہفتوں تک اسپتال میں صحت یابی کے بعد وہ گھر واپس آئیں اور اگست میں ہاکون کے ساتھ اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ منائی۔
ان حالات کے باعث ناروے میں بادشاہت کی مقبولیت میں بھی کمی دیکھی گئی۔ سرکاری نشریاتی ادارے این آر کے کے مطابق ’نورسٹیٹ‘ کے ایک سروے میں فروری 2026 میں بادشاہت کی حمایت 60 فیصد رہ گئی تھی، جو اس سے ایک ماہ قبل 70 فیصد تھی۔ مئی میں یہ شرح معمولی اضافے کے ساتھ 64 فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم خود بادشاہ ہیرالڈ کی مقبولیت بدستور بلند رہی۔ فروری کے سروے میں انہیں شاہی خاندان کی نمائندگی کرنے والی سب سے مقبول شخصیت قرار دیا گیا اور 10 میں سے 9.2 نمبر دیے گئے۔
ہیرالڈ 1991 میں تخت پر بیٹھے تھے اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ناروے کے رسمی سربراہِ مملکت رہے۔ وہ اپنے والد بادشاہ اولاو پنجم کے مقابلے میں ابتدا میں نسبتاً کم نمایاں شخصیت تھے، لیکن وقت کے ساتھ انہوں نے شاہی منصب کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ قومی بحرانوں کے دوران عوام کے قریب رہنے کے لیے بھی مشہور تھے۔ 2011 میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اینڈرس بیہرنگ بریوک کے حملوں میں اوسلو اور یوٹویا جزیرے پر 77 افراد کے قتل کے بعد ہیرالڈ نے قوم سے جذباتی خطاب کیا تھا۔ انہوں نے اس سانحے کے بعد آزادی، برداشت اور اتحاد پر زور دیا اور کہا تھا کہ آزادی خوف سے زیادہ طاقتور ہے۔
قدرتی آفات کے بعد بھی وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔ سیلاب، طوفان یا دیگر تباہ کاریوں کے موقع پر انہیں اکثر ربڑ کے جوتے اور سادہ پرانی جیکٹ پہنے متاثرین سے ملاقات کرتے دیکھا جاتا تھا۔ 2016 کی ایک تقریر میں انہوں نے ناروے کے معاشرے میں مختلف پس منظر، مذاہب اور جنسی رجحانات رکھنے والے افراد کی قبولیت اور برداشت کی حمایت کی تھی۔
ہیرالڈ برطانوی ملکہ وکٹوریہ کے پڑپوتوں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی پیدائش 21 فروری 1937 کو ہوئی اور یہ ناروے کے لیے خاص موقع تھا، کیونکہ تقریباً 570 سال بعد پہلی مرتبہ ناروے کی سرزمین پر کسی شاہی وارث کی پیدائش ہوئی تھی۔
ان کا بچپن بھی غیر معمولی حالات میں گزرا۔ 1940 میں نازی جرمنی نے ناروے پر حملہ کیا تو ان کے والد، ولی عہد اولاو، اور دادا بادشاہ ہاکون برطانیہ چلے گئے، جہاں انہوں نے ناروے کی جلاوطن حکومت کی قیادت کی۔ ننھے ہیرالڈ اپنی والدہ ولی عہد شہزادی مارتھا کے ساتھ پہلے غیر جانب دار سویڈن اور پھر امریکا چلے گئے۔
ہیرالڈ نے کچھ عرصہ وائٹ ہاؤس میں بھی گزارا اور بعد میں تقریباً پانچ سال میری لینڈ کے شہر بیتھزڈا میں مقیم رہے۔ وہ اپنی والدہ اور دو بڑی بہنوں کے ساتھ اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ سے متعدد مرتبہ ملے۔ ہیرالڈ نے کئی برس بعد روزویلٹ کو اپنے دادا جیسا قرار دیا تھا۔
جنگ ختم ہونے کے بعد 1945 میں ناروے واپسی پر ہیرالڈ نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی، جو ان کے والد کی نجی تعلیم سے مختلف تھا۔
1968 میں ہیرالڈ کی سونیا ہارالڈسن سے شادی بھی ناروے کے شاہی خاندان میں ایک بڑی روایتی تبدیلی سمجھی گئی۔ سونیا عام شہری خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ہیرالڈ نے ان سے شادی کرنے کے لیے اپنے والد کی رضامندی حاصل کرنے میں تقریباً نو سال تک انتظار کیا اور بالآخر واضح کر دیا کہ اگر سونیا سے شادی کی اجازت نہ ملی تو وہ شادی ہی نہیں کریں گے۔ بعد میں دونوں کی شادی ہوئی اور سونیا ملکہ بنیں۔
بادشاہ ہیرالڈ کے دور حکومت میں انہیں بعض اوقات شدید عوامی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 1998 میں ان کے خلاف اس وقت سخت ردعمل سامنے آیا جب اخبارات میں یہ رپورٹس شائع ہوئیں کہ انہیں صنعت کاروں کے ایک گروپ کی جانب سے تقریباً 40 لاکھ ناروے کرون کی کشتی تحفے میں ملی تھی۔ اسی دوران شاہی محل کی مرمت پر حکومت کے تقریباً 50 کروڑ کرون خرچ ہونے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
اسی عرصے میں ان کے سابق نائب نجی سیکریٹری نے یہ تجویز بھی دی کہ ہیرالڈ کو ناروے میں عام ریٹائرمنٹ کی عمر 67 سال تک پہنچنے کے بعد تخت چھوڑ دینا چاہیے۔ تاہم رائے عامہ کے جائزوں میں عوام کی بڑی تعداد نے ان کے تخت پر برقرار رہنے کی حمایت کی اور معاملہ وقت کے ساتھ دب گیا۔
بادشاہ ہیرالڈ نے بعد میں اپنے ایک انٹرویو میں تخت سے دستبرداری کے سوال پر مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ وہ زندگی بھر بادشاہ رہیں گے، البتہ اگر وہ مکمل طور پر ہوش و حواس کھو بیٹھے تو صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔ اس موقع پر ملکہ سونیا نے ہنستے ہوئے سوال کیا تھا کہ انہیں یہ بتائے گا کون۔
ہیرالڈ کھیلوں، کشتی رانی اور گاڑیوں کے شوقین بھی تھے۔ وہ بعض غیر رسمی تقریبات میں اپنی گاڑی خود چلاتے تھے۔ کشتی رانی میں انہوں نے عالمی چیمپئن شپ بھی جیتی اور کئی اولمپک مقابلوں میں ناروے کی نمائندگی کی، اگرچہ وہ اپنے والد کی طرح اولمپک طلائی تمغہ حاصل نہ کر سکے۔
قدرت اور ماحول کے تحفظ میں بھی ان کی خاص دلچسپی تھی۔ 76 سال کی عمر میں انہوں نے برازیل کے ایمازون کے جنگلات میں چار دن گزارے اور یانومامی برادری کے ساتھ رہ کر اپنی زندگی کا ایک دیرینہ خواب پورا کیا۔ وہاں انہوں نے روایتی انداز میں جھولے میں راتیں گزاریں۔
بادشاہ ہیرالڈ نے ناروے کی بادشاہت کو محض ایک رسمی ادارے کے طور پر برقرار رکھنے کے بجائے اسے عام لوگوں کے قریب رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے انتقال کے بعد ناروے کو نہ صرف ایک طویل عرصے تک تخت پر رہنے والے بادشاہ سے محروم ہونا پڑا ہے بلکہ ان کے جانشین ہاکون کو ایسے وقت میں ملک کی شاہی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں جب شاہی خاندان کی مقبولیت، نجی معاملات اور مستقبل کے کردار پر عوامی بحث جاری ہے۔









