بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آبنائے ہرمز کھلنے کی افواہیں،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ

عالمی مارکیٹ میں خام تیل(crude oil) کی قیمتیں ہفتے کے اختتام پر مزید کم ہوگئیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے کے ممکنہ معاہدے کی افواہوں نے بھی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق  برینٹ خام تیل کے سودے 39 سینٹ یا 0.43 فیصد کمی کے بعد 89.31 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 13 سینٹ یا 0.16 فیصد کمی کے بعد 83.40 ڈالر فی بیرل رہی۔

ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت میں 5 فیصد سے زیادہ جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 4 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی۔

ہرمز معاہدے کی افواہوں نے مارکیٹ کو متاثر کردیا
رپورٹ کے مطابق سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی اور عالمی توانائی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ نئی فیڈ چیئرمین کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے رواں سال ممکنہ شرحِ سود میں اضافے کے اشاروں نے بھی تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔

دوسری جانب مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت دوبارہ معمول پر لانے کے لیے ممکنہ معاہدہ سامنے آسکتا ہے۔

جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم بحری گزرگاہ سے گزرتی تھی، اس لیے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بحالی عالمی مارکیٹ میں سپلائی بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔

مزیدپڑھیں:متنازع ٹیلی کام بل سینیٹ سے واپس لے لیا گیا

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں عارضی بحالی کے باوجود صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ جمعرات کو صرف 7 کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی۔

 روسی ریفائنریوں پر حملوں کا اثر برقرار
دوسری جانب یوکرین کی جانب سے روسی توانائی تنصیبات پر حملے بھی عالمی تیل مارکیٹ کے لیے اہم عنصر بنے ہوئے ہیں۔ یوکرینی جنرل اسٹاف کے مطابق یوکرینی فوج نے رات کے وقت روس کے یاروسلاول خطے میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔

ادھر ماسکو نے برطانوی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے روسی سرزمین پر یوکرینی حملوں کے جواب میں برطانوی فوجی اہداف کو روس کے اندر اور باہر نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔

یوں ایک طرف آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہونے کی امید عالمی قیمتوں کو نیچے لا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، روسی ریفائنریوں پر حملے اور عالمی توانائی سپلائی سے متعلق غیر یقینی صورتحال مارکیٹ کو مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہے۔