لارڈز: انگلینڈ نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں 194 رنز سے شکست دے کر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔ پاکستان کو لارڈز کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں 16 سال بعد ٹیسٹ میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انگلینڈ نے پاکستان کو میچ میں کامیابی کے لیے 389 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ انگلش باؤلنگ کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکی اور پوری ٹیم 194 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
پاکستان کی جانب سے سعود شکیل نے شاندار مزاحمت کرتے ہوئے 97 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کے ٹاپ اسکورر رہے، تاہم وہ سنچری مکمل نہ کرسکے، سعود شکیل نے مشکل صورتحال میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کو ہدف کے قریب لے جانے کی کوشش کی، لیکن دوسرے اینڈ سے انہیں مطلوبہ تعاون نہ مل سکا۔
شان مسعود 26 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ علی عثمان نے 16 رنز بنائے، کپتان بابر اعظم اور اذان اویس 6،6 رنز بنا سکے، محمد رضوان صرف ایک رن بنا سکے، جبکہ عبداللہ شفیق بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
انگلینڈ کے باؤلرز نے دوسری اننگز میں ابتدا ہی سے پاکستانی بیٹرز پر دباؤ برقرار رکھا اور وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرکے پاکستان کی ہدف کے تعاقب کی امیدیں ختم کردیں۔
اس سے قبل انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 248 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں پاکستان کی ٹیم 171 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی، انگلینڈ نے دوسری اننگز میں عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے بڑا مجموعہ ترتیب دیا اور پاکستان کے سامنے 389 رنز کا مشکل ہدف رکھا۔
پاکستانی باؤلرز نے محمد عباس کی قیادت میں انگلینڈ کو دوسری اننگز میں مشکلات سے دوچار کیا، محمد عباس نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 57 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور لارڈز کے میدان میں ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے والے پاکستانی باؤلرز کی فہرست میں شامل ہوگئے۔
تاہم پاکستانی بیٹنگ لائن انگلینڈ کے باؤلرز کا دباؤ برداشت نہ کرسکی، سعود شکیل کی 97 رنز کی مزاحمتی اننگز بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکی۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر کی متوقع عبوری کابینہ کے ناموں کو حتمی شکل دیدی گئی
دوسرے ٹیسٹ میں کامیابی کے ساتھ انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز بھی اپنے نام کرلی، جبکہ پاکستان کو لارڈز میں 16 سال بعد ٹیسٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔









