عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں(Gold Rates) منگل کو محدود دائرے میں رہیں، جہاں سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ رواں ہفتے جاری ہونے والے اہم امریکی روزگار کے اعداد و شمار پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی کے بارے میں مارکیٹ کی توقعات پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,437.10 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ گزشتہ سیشن میں سونا 19 اگست کے بعد کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔ دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 4,485.30 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔
سرمایہ کار رواں ہفتے امریکا میں جاری ہونے والے روزگار سے متعلق اہم اعداد و شمار کا انتظار کررہے ہیں، جن میں ملازمتوں کی خالی آسامیوں، اے ڈی پی روزگار رپورٹ اور نان فارم پے رولز کے اعداد و شمار شامل ہیں۔ مارکیٹ میں ان اعداد و شمار کو امریکی لیبر مارکیٹ کی مضبوطی کا اندازہ لگانے اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ شرح سود کے فیصلے کے ممکنہ رخ کا تعین کرنے کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے۔
گزشتہ ہفتے سونے کی قیمت تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم جمعہ کو امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے مہنگائی سے متعلق محتاط اور سخت گیر مؤقف کے بعد قیمتی دھات کی قیمت میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
مزیدپڑھیں:سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 4.3 ریکارڈ
آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق وارش کی جیکسن ہول میں کی جانے والی تقریر کے علاوہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کی توقعات میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمت پر مزید دباؤ آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں صرف ایک مرتبہ اضافہ کیا جاتا ہے تو یہ سونے کے لیے بڑا مسئلہ نہیں ہوگا، تاہم دو یا تین شرح سود میں اضافے کی صورت میں قیمتی دھات کی قیمتوں پر نمایاں دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے پر شرح سود میں اضافے کا اثر اس لیے پڑتا ہے کہ سونا کوئی باقاعدہ سود یا منافع فراہم نہیں کرتا، جس کے باعث بلند شرح سود کے ماحول میں سرمایہ کاروں کے لیے دیگر منافع بخش اثاثے نسبتاً زیادہ پرکشش ہوجاتے ہیں۔
دریں اثنا، دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ اسپاٹ سلور کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 66.34 ڈالر فی اونس ہوگئی، پلاٹینم 0.1 فیصد اضافے کے بعد 1,793.03 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جبکہ پیلیڈیم کی قیمت 1,356.75 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہی۔









