بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹیسٹ ٹیم میں تبدیلیاں ناگزیر تھیں، تنقید سے نہیں گھبراتا، محسن نقوی

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں تبدیلیاں ناگزیر تھیں،کارکردگی کے علاوہ دیگر عوامل کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ قومی ٹیم کی ناقص پرفارمنس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ انگلینڈ میں جو کچھ کیا، ضروری تھا، پرفارمنس کےعلاوہ دیگر معاملات ہیں، فی الحال اسے دیکھ رہے ہیں۔

چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ یہ کوئی مستقل چیز نہیں کہ کسی کو بھی ذمہ داری دینی ہے تو اسے تین سال ہی رکھنا ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ جنوبی افریقہ نمیبیا سے ہارا اور بھارت آئرلینڈ سے ہار گیا تو کیا ان کی کرکٹ ختم ہوگئی، ؟

محسن نقوی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جہاں پر جس کھلاڑی کی ضرورت ہوگی اس کو ہم موقع دینگے،ہمارے لیے ایک ایک میچ اہم ہے۔

سلمان علی آغا کی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زبردست پلیئر ہے لیکن اس سے پرفارم نہیں ہوا تو اس سے بات کی گئی۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ کسی کی تنقید پر نہیں جاؤں گا جب کسی کو رکھوں تب مسئلہ جب نکالیں تب مسئلہ ۔انگلینڈ میں پچھلے دو ٹیسٹ میں جتنا غلط ہوا اس سے زیادہ غلط ہو نہیں سکتا۔آنیوالے دنوں میں ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری آئیگی جیسے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں آئی، کرکٹ بورڈ نتائج پر جوابدہ ہے۔

محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ جب سے نئی کوچنگ ٹیم آئی ہے پاکستان کی ٹیم ون ڈے میں آٹھویں سے پانچویں نمبر پر آگئی، اس دوران ہم نے 6 میں سے 4 بائی لیٹرل سیریز بھی جیتیں۔

اپنے دور کی کارکردگی پر مزید بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ہم ٹی ٹوئنٹی میں نویں نمبر پر تھے اب چھٹے پر آچکے ہیں، قومی ٹیم کی کامیابی کی شرح 24 سے اب 74 فیصد تک آگئی ہے،ایک میچ ہارتے ہیں تو تنقید ضرور کریں لیکن یہ کہنا شروع ہو جاتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ ختم ہوگئی۔

محسن نقوی نے تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ پلیئر جنہوں نے زندگی میں کچھ نہیں کیا وہ تنقید کرتے ہیں، میں تنقید سے نہیں گھبراتا، سابق کرکٹرز سے رائے بھی لیتا ہوں۔

چیئرمین پی سی بی نے اعتراف کیا کہ ٹیسٹ میچ میں ہماری پرفارمنس بہت بری ہے اور اس کی کچھ وجوہات ہیں،جن میں سے کچھ وجوہات پر ابھی بات کرنا مناسب نہیں ہے،کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ختم ہونی چاہیے، ان پر کھلے عام الزام نہیں لگنے دونگا،ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی پرفارمنس پر کوچنگ اسٹاف اور سلیکشن کمیٹی کو مبارکباد بھی دونگا۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ سلیکشن میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں یہ لوگ کوئی فرشتے نہیں ہیں،ان سے جواب بھی لیں گے اور مزید کام بھی کرینگے،اگر کسی کو میری ذات سے بغض ہے تو وہ مجھ پر ضرور تنقید کریں لیکن کرکٹ کو ٹارگٹ نہ کریں۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ ٹیم برمنگھم پہنچ گئی،قومی ٹیم کل ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں ٹریننگ کرے گی،پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ 9 ستمبر سے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔

یاد رہے لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے امام الحق سمیت 7 کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا تھا۔ ان کے علاوہ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

سابق کپتان مصباح الحق نے بھی حالیہ اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کے بعد سلیکشن پینل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اور رکن سیلکشن کمیٹی عاقب جاوید نے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 2 ٹیسٹ میچز کھیلے لیکن ٹیم کسی بھی طرح مقابلہ کرتی نظر نہیں آئی، جبکہ ایک ٹیسٹ ابھی باقی ہے۔

ان کے مطابق ٹیم مینجمنٹ کے پاس ایک پیس آل راؤنڈر، دوسرا وکٹ کیپر اور تقریباً 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنے والا فاسٹ بولر عبید شاہ موجود تھا، لیکن ان کھلاڑیوں کو استعمال کرنے کے فیصلے نہیں کیے گئے۔

عاقب جاوید نے بتایا کہ انہوں نے کپتان بابر اعظم اور کوچ سے عبید شاہ کو ٹیم میں شامل کرنے کا کہا تھا کیونکہ دیگر بولرز محمد عباس، محمد علی اور خرم شہزاد کی رفتار تقریباً ایک جیسی ہے۔

مزید پڑھیں:چوری یا خیانت ؟ نیدرلینڈز نے امریکا اور کینیڈا سے 86 ٹن سونا کیوں منتقل کیا؟

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ٹاپ 7 بیٹرز میں کوئی بھی بولنگ نہیں کرتا، اس لیے ٹیم میں آل راؤنڈر کو شامل کرنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق ایک ایسا فاسٹ بولر جو 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب رفتار سے گیند کرے، ٹیم کے بولنگ اٹیک کی ساخت تبدیل کرسکتا ہے۔