لاہور: جماعت اسلامی اور وفاقی حکومت کے وفد نے پیٹرولیم لیوی سمیت دیگر مطالبات پر بات چیت کے لیے متفقہ طور پر کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ حافظ نعیم الرحمان نے مطالبات پورے ہونے تک ملک بھر میں جاری دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے تحت پیٹرولیم لیوی کے خلاف آج ملک گیر ہڑتال کی گئی۔ اس دوران وفاقی حکومت کا وفد امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم سے ملاقات کے لیے منصورہ لاہور پہنچ گیا۔ وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے۔
ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے، پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے جماعت اسلامی کی تجاویز کو سنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ عوام کو ریلیف ملنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو گا حکومت عوام کو ریلیف دے گی، جماعت اسلامی کی تحریک عوامی ریلیف کے لیے ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم نے پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے کمیٹی بنا دی ہے اور جماعت اسلامی بھی اس حوالے سے ایک کمیٹی بنا دے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کی وجہ سے عوام آدمی پر بوجھ پڑ رہا ہے، 2 ہفتوں میں مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کر لیں گے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت کم از کم روٹی تو 10 روپے کی کردے، کسان بھی پریشان ہے اور آٹا بھی مہنگا مل رہا ہے جبکہ گورننس کا بھی مسئلہ ہے اس کو بھی حل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھی ملکی صورتحال کو سمجھتے ہیں تاہم کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کریں گے، ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ پیٹرولیم لیوی کم کی جائے اور پیٹرول سستا کیا گا، ہمیں بار بار کہا گیا کہ دھرنے مؤخر کر دیں لیکن مطالبات پورے ہونے تک دھرنے جاری رہیں گے اور ساتھ ہی مذاکرات بھی ہوں گے۔
مزید پڑھیں:پنجاب میں گرینڈ انسداد کرپشن آپریشن، خفیہ سیل قائم، گرفتاریاں شروع
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ٹیکسز کا مارجن کم ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایک لیٹر پیٹرول پر مختلف ٹیکسز کی مد میں 131 روپے وصول کیے جا رہے ہیں، ہم نے اپنی کمیٹی بنا دی ہے اور حکومتی وفد چاہے تو آج رات سے بھی مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔









