دنیا بھر میں اپنی الگ شناخت بنانے والے نئے عالمی ریکارڈ ہولڈرزڈائنامک ڈیرک(المعروف ڈیرک) اوربامبو ایک ایسا انوکھا گدھوں کا جوڑا ہیں جو ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیتا ہے۔ زمین پر موجود دنیا کے سب سے لمبے زندہ گدھے اور تاریخ کے سب سے لمبے کان رکھنے والے گدھے کی یہ ریکارڈ ساز جوڑی برطانیہ کے علاقے لنکن شائر کے گاؤں ہٹوفٹ میں واقع ریڈکلف ڈونکی سینکچوئری (Radcliffe Donkey Sanctuary) میں مقیم ہے۔ اپنے غیر معمولی سائز کے باعث یہ پیاری جوڑی پہلے ہی بڑی تعداد میں مداحوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے اور انہوں نے گنیز ورلڈ ریکارڈز 2026کی کتاب میں اپنی جگہ یقینی بنا لی ہے۔
گزشتہ سال فروری میں کی جانے والی باضابطہ پیمائش کے مطابق، ڈیرک کا قد کھروں سے لے کر کندھے (withers) تک 167 سینٹی میٹر (5 فٹ 5 انچ) ریکارڈ کیا گیا۔ اس حیران کن قد کی بدولت ڈیرک نے دنیا کے سب سے لمبے زندہ گدھے کا تاج اپنے سر سجایا، جو کہ اپنی نسل کے عام گدھوں کی اوسط لمبائی سے پورے 20 سینٹی میٹر زیادہ ہے۔ نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے پناہ گاہ کی مالکن ٹریسی گارٹن نے بتایا کہ کوئی بھی یہ یقین نہیں کرتا کہ ڈیرک ایک گدھا ہے؛ اس کے دیوہیکل سائز کی وجہ سے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک خچر ہے۔ جبکہ عام گدھوں کا اوسط قد 109 سے 145 سینٹی میٹر (4 فٹ 3 انچ سے 5 فٹ 7 انچ) کے درمیان ہوتا ہے، ڈیرک کا قد شاہانہ ہے۔ اس کا یہ بڑا سائز اس کے والدین کی بدولت ہے؛ اس کی ماںمس ایلی کا قد 156.8 سینٹی میٹر اور باپ لوئس کا قد 161.2 سینٹی میٹر تھا۔ 2012 میں ریسکیو کی جانے والی اس کی ماں بھی اپنے غیر معمولی قد کی وجہ سے مشہور تھی۔ اپنے والدین کی جینز، بہترین اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی بدولت ڈیرک نے امریکی ریاست ٹیکساس کے سابقہ ریکارڈ ہولڈررومولس سے یہ عالمی اعزاز چھین لیا۔ ڈیرک کی نسل امریکن میمتھ جیک اسٹاک ہے جو اپنے بڑے سائز کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
جسامت میں بڑا ہونے کے باوجود ڈیرک بے حد نرم مزاج، پیار کرنے والا اور دوستانہ جانور ہے۔ ٹریسی اسے ایک “رحم دل دیو” قرار دیتی ہیں۔ دی سن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ڈیرک پیدائش سے ہی بڑا تھا، لیکن اسے خود اندازہ نہیں کہ وہ اتنا بڑا ہے۔ وہ بالکل ایک بڑے کتے کی طرح ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتا ہے اور انسانوں کی قربت پسند کرتا ہے۔ ڈیرک اپنا دن پناہ گاہ میں سکون سے گھومتے ہوئے، ہری گھاس اور خشک چارہ کھاتے ہوئے گزارتا ہے۔ وہ ہفتے میں اوسطاً 200 کلوگرام (440 پاؤنڈ) چارہ کھا جاتا ہے۔ اسے گاجریں اور خاص طور پر ادرک کے بسکٹ (Ginger Biscuits) بے حد پسند ہیں۔
ڈیرک کے ساتھ والے اصطبل میں اس کا بہترین دوست بامبو رہتا ہے۔ پوئٹو (Poitou) نسل کا یہ گدھا اب تاریخ کا سب سے لمبے کانوں والا گدھا بن چکا ہے۔ بامبو کے کانوں کی لمبائی 35 سینٹی میٹر (1 فٹ 1 انچ) ہے، جو کہ ایک کمپیوٹر کی بورڈ کے برابر ہے۔ قدرتی طور پر گدھوں کی سننے کی صلاحیت بہت تیز ہوتی ہے۔ ان کے بڑے اور متحرک کان دور کی آوازیں سننے اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے علاوہ گرمیوں میں جسم کا درجہ حرارت متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، بامبو کے اتنے بڑے اور روئی کی طرح نرم کان اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ ٹریسی کا کہنا ہے کہ بامبو اس پناہ گاہ کا سب سے زیادہ گود لیا جانے والا جانور ہے۔ وہ بہت سیدھا اور پیارا بچہ ہے، اگرچہ اس کے اتنے بڑے کان ہیں لیکن کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے کہ شاید وہ بہرا ہے۔ پناہ گاہ کے 9 سالہ تجربہ کار رضاکار بل ٹیمبی نے پیار سے مسکراتے ہوئے کہا کہ بامبو ایک بہت اچھا گدھا ہے لیکن وہ ذہانت میں ذرا سادہ لوح ہے۔

ٹریسی اور اسٹیو گارٹن کی جانب سے 1999ء میں قائم کی جانے والی اس نان پرافٹ سنکچوئری میں گدھے، خچر اور زیبرائیڈز (Zebroids) سمیت متعدد جانوروں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ اس پناہ گاہ کا مقصد بے سہارا اور مشکل میں گھِرے گدھوں کو ریسکیو کر کے انہیں ایک محفوظ اور معیاری زندگی فراہم کرنا ہے۔ اس وقت پناہ گاہ میں کل 48 گدھے، 1 خچر، نر گدھے اور مادہ زیبرا کے ملاپ سے پیدا ہونے والے 2 نایاب زیڈونکس (Zedonks) اور نر زیبرا و مادہ گدھی سے پیدا ہونے والا 1 زونکی (Zonkey) موجود ہے۔
تاہم، ان تمام جانوروں کی دیکھ بھال، معیاری خوراک، نعل بندی اور ڈاکٹروں کے بھاری اخراجات کو پورا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ ادارہ مکمل طور پر عوام کے عطیات پر چلتا ہے اور یہاں آنے والے سیاح جانوروں کو گود لے کر ان کے ماہانہ اخراجات میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ پناہ گاہ کی انتظامیہ اور رضاکار ڈیرک اور بامبو کے گنیز ورلڈ ریکارڈز 2026 میں شامل ہونے پر بے حد نہال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے دو گدھوں کا ورلڈ ریکارڈ بننا اور گنیز بک میں شامل ہونا ایک خواب کے سچ ہونے جیسا ہے۔ اس عالمی شہرت سے پناہ گاہ کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا، زیادہ سیاح آئیں گے اور عطیات ملنے سے یہاں موجود تمام بے سہارا جانوروں کی بہتر دیکھ بھال ممکن ہو سکے گی۔









