بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسرائیلی وزیر نے فلسطینیوں کو نکال کر مختلف ممالک میں چھوڑنے کا منصوبہ پیش کردیا

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر(Itmar Ben Guer) نے غزہ کی پٹی سے فلسطینی آبادی کو مرحلہ وار بیرونِ ملک منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کردیا ہے۔

بین گویر نے اپنے منصوبے کو حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کو مختلف ممالک میں منتقل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی ممالک فلسطینیوں کو اپنے ہاں رکھنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔

اسرائیلی وزیر کے مطابق منصوبے کے پہلے سال تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار فلسطینیوں کو غزہ سے باہر منتقل کیا جائے گا، جبکہ اس کے بعد باقی آبادی کو بھی مرحلہ وار مختلف ممالک میں منتقل کرنے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ بعض رپورٹس کے مطابق منصوبے کا ہدف تقریباً 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو سات سال کے عرصے میں غزہ سے باہر منتقل کرنا ہے۔

بین گویر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ’’یہودی طاقت‘‘ آئندہ حکومت سازی کے دوران فلسطینیوں کی ہجرت سے متعلق ایک علیحدہ وزارت کے قیام کا مطالبہ کرے گی۔ ان کے مطابق اس منصوبے پر گزشتہ ڈیڑھ سال سے کام جاری تھا اور اب یہ ایک باقاعدہ اور ٹھوس منصوبے کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

منصوبے میں بیرونِ ملک منتقل ہونے والے فلسطینیوں کے لیے منزل کا ملک، قانونی حیثیت، ویزا، سفری اخراجات اور ابتدائی رہائش فراہم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پیشہ ورانہ تربیت، روزگار میں مدد اور محدود مدت تک مالی معاونت کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

بین گویر نے اپنے منصوبے کو رضاکارانہ ہجرت کا نام دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کا مقصد فلسطینیوں کو زبردستی غزہ سے نکالنا نہیں۔

تاہم انسانی حقوق کے حوالے سے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ غزہ کی موجودہ صورتحال میں بڑی تعداد میں شہریوں کو علاقے سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کو جبری بے دخلی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:اسلام آباد اور راولپنڈی میں مزید کتنے دن بارشیں جاری رہیں گی؟

بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقے سے شہری آبادی کی جبری بے دخلی سنگین قانونی مسئلہ ہے اور جنیوا کنونشن کے تحت اسے جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔

فلسطینیوں کے لیے غزہ سے بڑے پیمانے پر بے دخلی کی بات 1948 کے واقعات کی یاد بھی تازہ کرتی ہے، جب بڑی تعداد میں فلسطینی اپنے گھروں اور علاقوں سے بے دخل ہوئے تھے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں عام انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔ بین گویر نے اپنے منصوبے کو انتخابی مہم کا اہم حصہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز بھی حالیہ دنوں میں غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے منصوبوں اور اس سلسلے میں امریکی حمایت کے حصول کی بات کر چکے ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ بین گویر کا پیش کردہ منصوبہ عملی طور پر کب اور کس طریقے سے نافذ کیا جا سکے گا، جبکہ ان کے دعوے کے مطابق فلسطینیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ممالک کے نام بھی تاحال سامنے نہیں آئے ہیں۔