سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی(Muhammad Ali Durrani) نے کہا ہے کہ لندن پلان جان بچائو پلان ہے۔ جس کا مقصدعوام سے اپنی جان، مال اور حکومت بچانا ہے۔
سندھ کی تقسیم کا کوئی بل ابھی سامنے آیا نہیں لیکن پی پی پی نے سنا ، دیکھا اور ماحول بنانا اور شور مچانا شروع کردیا ہے۔ ہم بہاولپور اور ہزارہ صوبہ بنائیں گے ۔ دیکھتے ہیں ہمیں کون روکتا ہے جس کی منظوری خود انہوں نے دی ہوئی ہے۔
ووٹ بینک نہ ہونے کی وجہ سے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) میں الیکٹ ایبلز کی کوئی دلچسپی اور کشش نہیں رہی۔الیکشن سے پہلے ووٹ بینک تو رہا نہیںتھا، اب سپورٹ بینک بھی ختم ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی نے ڈائریکشن بدل لی ہے ، وہ اب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں نکلے گی، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف اور صوبوں کی حمایت میں نکلے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اڑھائی سال سے یہی کہہ رہا تھا ۔ پی ٹی آئی جنگی مشین نہیں، وہ تصادم چھوڑ کر سیاست کرے ، حکومت کے خلاف بولے، اسے سیاسی شئیر بھی ملے گا۔ یہ بات اب پی ٹی آئی کو سمجھ آگئی ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ پی ٹی آئی نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا طے کرلیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) والے اب جتنی مرضی کوشش کرلیں ، اب پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں نکلے گی۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے لوگ عوام کے ووٹ بینک کے دبائو کی وجہ سے کہیں نہیں جاسکے جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے پاس اپنے الیکٹ ایبلز کو دینے کے لئے کچھ نہیں۔ نہ یہ معیشت ٹھیک کرسکے اور عوام کو کچھ ڈلیور کرسکے۔ نہ عوام اِن کے ساتھ ہیں۔ اب اسٹیبلشمنٹ بھی اِن کے ساتھ نہیں رہتی تو یہ آئیندہ کا الیکشن جیت نہیں سکتے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہ اسٹیبلشمنٹ مڈل اور لوئر مڈل کلاس پر مبنی ہوتی ہے، عوام بھی مڈل اور لوئر مڈل کلاس ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی اشرافیہ کی نمائندہ جماعتیں بن چکی ہیں۔ ان کے جہازوں کے پٹرول چلتے رہے لیکن موٹر سائیکل کا پٹرول مہنگا کردیا۔
مزیدپڑھیں:عمران خان کی شمولیت کے بغیر نئے صوبوں کا تصور نہیں بنتا، اسد عمر
ان کے علاج بیرون ملک ہوتے ہیں اور معصوم بچے ۔ ان جماعتوں کا عوام اور نوجوانوں کے ساتھ کوئی رابطہ اور تعلق برقرار نہیں رہا۔ یہ عدم تعلق نوشتہ دیوار ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کسی ہارے ہوئے گھوڑے یامردہ لاش پر کبھی اپنی انوسٹ نہیں کرتی۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ نظام کولیپس کرگیا ہے لیکن کولیپس کرانے والے امیر ہوگئے ہیں۔ انہوں نے دوبئی میں پیسہ لگایا ، وہ بیٹھ گیا، اب لندن چلے گئے، اللہ لندن پر رحم کرے۔
پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایک بوجھ اور لائیبیلیٹی بن چکی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے اپوزیشن کے ساتھ ملنے کے سوال پر سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہاکہ مولانا کے ہونے سے زیادہ دیکھنے والی بات ہے کہ کیا پی ٹی آئی کمرے کے باہر مولانا کے ساتھ ہوگی؟ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ صورتحال بڑی دلچسپ ہوگئی ہے کیونکہ سیاستدان میدان میں کھیل رہے ہیں۔
پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) چاہتے ہیں کہ عوام کی مقبولیت بحال ہوسکے اور اقتدار بھی بچ جائے ۔ تیسر اہدف اُن کا یہ ہے کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے لڑتی رہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی بقا اسی میں ہے کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے لڑتی رہے۔
پی ٹی آئی نے یہ بات سمجھ لی ہے، اب پی ٹی آئی اس سازش کا شکار نہیں ہوگی اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف باہر نہیں نکلے گی۔ حکومت کے خلاف نکلیں گے، صوبے کے حق میں نکلے گی، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف نکلے گی۔میری دانست میں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دِل سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔









