اسلام آباد (ملک نجیب) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست کی سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کرتے ہوئے تمام صوبوں کے آئی جیز، چیف سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ افسران کو کل دوبارہ طلب کرلیا۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو ماضی میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ریکارڈ بھی کل پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں، 2024 کے احتجاج کے دوران 31 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھی طلب کرنا پڑی۔
اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ احتجاج کے لیے سرکاری وسائل یا مشینری استعمال نہیں کی جاسکتی اور تمام صوبائی حکومتوں کو امن و امان برقرار رکھنے اور آئین و قانون کی پابندی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کے بنیادی حقوق متاثر کرکے احتجاج کا حق استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس مقدمے میں فریق نہیں اور لانگ مارچ کو حملہ قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے عدالت سے دو دن کا وقت مانگا، تاہم چیف جسٹس نے صرف کل تک کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزیوں سے متعلق ریکارڈ بھی پیش کیا جائے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا آئینی اختیار حاصل ہے اور کسی کو اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ اسے کسی سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت ہو۔
مزید پڑھیں:ایپل کا بڑا دھماکا، پہلی بار فولڈ ایبل آئی فون لانچ، فیچرز جانیئے؟
عدالت نے تمام صوبوں کے آئی جیز، چیف سیکریٹریز اور متعلقہ افسران کو کل دوبارہ پیش ہونے کے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔









