اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فنانس ایکٹ 2026 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترامیم کے ذریعے ٹیکس نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کردی ہیں، جس میں خصوصی طور پر تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹربیون کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری وضاحتی سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ نئے نظام کے تحت فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ متعارف کرائی گئی ہے جبکہ ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے الگورتھم پر مبنی سیٹلمنٹ میکانزم بھی وضع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بینکنگ لین دین کی ڈیجیٹل نگرانی، سوشل میڈیا آمدن پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس اور بعض لائف انشورنس ادائیگیوں پر فائنل ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کو مخصوص کیسز، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے لیے نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ نئے طریقہ کار میں آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے امور الگ الگ افسران انجام دیں گے جبکہ ٹیکس حکام اور ٹیکس دہندگان یا ان کے نمائندوں کے درمیان رابطہ الیکٹرانک ذرائع سے ہوگا۔
ٹیکس تنازعات کے لیے متعارف کرائے گئے الگورتھمک سیٹلمنٹ نظام کے تحت کارروائی کے مرحلے، ٹیکس دہندہ کے سابقہ ٹیکس ریکارڈ اور سامنے آنے والے تضاد سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر سیٹلمنٹ آفر تیار کی جاسکے گی۔ ٹیکس دہندہ کو ایف بی آر کے آئی رس نظام کے ذریعے 10 روز میں پیشکش قبول، مقررہ رقم جمع اور نظرثانی شدہ ریٹرن جمع کرانا ہوگا۔
پیشکش قبول ہونے کے بعد متعلقہ آڈٹ، نوٹس یا کارروائی میں شامل معاملات طے شدہ تصور ہوں گے تاہم دیگر معاملات یا ٹیکس سالز کی کارروائی متاثر نہیں ہوگی۔
ہائی کورٹ میں ریفرنس یا وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں اپیل یا نظرثانی درخواست دائر کرنے سے قبل آزاد کیس اسکروٹنی کمیٹی کی منظوری بھی لازمی کردی گئی ہے۔ کمیٹی میں اعلیٰ عدالت کے ریٹائرڈ جج بطور چیئرمین، ٹیکس اور کمرشل مقدمات میں کم از کم 15 سالہ تجربہ رکھنے والا وکیل اور گریڈ 20 یا اس سے اوپر کا حاضر سروس یا ریٹائرڈ ایف بی آر افسر شامل ہوگا۔
نئے قانون کے تحت بینکوں اور الیکٹرانک مالیاتی اداروں کو ایسے اکاؤنٹ ہولڈرز کی مخصوص معلومات مرکزی ڈیٹا ہب پر اپ لوڈ کرنا ہوں گی جن کے ڈپازٹس یا رقم نکلوانے کی مالیت رپورٹنگ مدت میں 10 کروڑ روپے سے تجاوز کرے۔ اس ڈیٹا کو ٹیکس اور بینکنگ ریکارڈ کے ساتھ الگورتھم کے ذریعے ملایا جائے گا اور نمایاں تضاد کی صورت میں کیس کمپلائنس رسک مینجمنٹ نظام کو بھیجا جاسکے گا۔
ایف بی آر کے ساتھ مطلوبہ الیکٹرانک نظام نصب یا مربوط نہ کرنے والے کاروباروں کے دعویٰ کردہ اخراجات پر 3 فیصد کے برابر کٹوتی ہوسکے گی، جبکہ الیکٹرانک نظام کی تنصیب، انضمام اور کنفیگریشن میں کی گئی اصل سرمایہ کاری کے 10 فیصد کے برابر ٹیکس کریڈٹ بھی دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ بینک اور نان بینک مالیاتی ادارے یہ ٹیکس رقم وصول کنندہ کے اکاؤنٹ میں جمع کرتے وقت وصول کریں گے۔ مقیم ٹیکس دہندگان کے لیے یہ کم از کم ٹیکس جبکہ پاکستان میں مستقل کاروباری ادارہ نہ رکھنے والے غیر مقیم افراد کے لیے فائنل ٹیکس ہوگا۔
لائف انشورنس، فیملی تکافل اور اسی نوعیت کے بعض منصوبوں سے حاصل ہونے والی ادائیگیوں پر بھی فائنل ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔ تاہم موت یا معذوری کی صورت میں ملنے والی رقم اور پالیسی یا سرٹیفکیٹ کے اجرا کے چار سال مکمل ہونے کے بعد ہونے والی ادائیگیاں مستثنیٰ رہیں گی۔ ایک سال کے اندر ادائیگی پر 15 فیصد جبکہ ایک سال کے بعد اور چار سال مکمل ہونے سے پہلے ادائیگی پر 10 فیصد ٹیکس ہوگا۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کی تفصیلات
نئے ٹیکس نظام میں تنخواہ دار افراد اور انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے شرحیں کم کی گئی ہیں۔ سالانہ 6 لاکھ روپے تک قابل ٹیکس آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 6 لاکھ سے زائد رقم کا ایک فیصد، جبکہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپےسالانہ تک آمدن پر 6 ہزار روپے اور اضافی رقم کا 11 فیصد ٹیکس ہوگا۔
اسی طرح 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 1 لاکھ 16 ہزار روپے اور اضافی رقم کا 20 فیصد، 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک سالانہ 3 لاکھ 16 ہزار روپے اور اضافی رقم کا 25 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 5 لاکھ 41 ہزار روپے اور اضافی رقم کا 29 فیصد، 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک سالانہ آمد ن پر9 لاکھ 76 ہزار روپے اور اضافی رقم کا 32 فیصد جبکہ 70 لاکھ روپے سے زائدسالانہ آمدن پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے اور اضافی رقم کا 35 فیصد ٹیکس ہوگا۔اسی طرح 10 ملین روپے سے زیادہ قابل ٹیکس آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد پر عائد 9 فیصد سرچارج بھی ختم کردیا گیا ہے۔
دیگر اہم تبدیلیاں
سیکشن سیون ای کے تحت فرضی آمدن (deemed income)پر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔ ای کامرس میں 20 کروڑ روپے سے زیادہ سالانہ ٹرن اوور رکھنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے ٹیکس ایڈجسٹ ایبل ہوگا، جبکہ 20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور رکھنے والوں کو ٹیکس سال 2027 سے نارمل ٹیکس نظام اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
غیر منقولہ جائیداد کی فروخت یا منتقلی پر ایڈوانس ٹیکس 2.75 فیصد جبکہ خریداری پر فیئر مارکیٹ ویلیو کا 1.25 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی کریڈٹ، ڈیبٹ اور پری پیڈ کارڈز سے ادائیگیوں پر ایڈوانس ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کردیا گیا ہے۔
بعض خدمات پر ود ہولڈنگ ٹیکس 6 سے بڑھا کر 7 فیصد، آزاد پیشہ ورانہ خدمات پر 15 فیصد، ٹرمنل اور پورٹ آپریٹنگ سروسز پر 12 فیصد جبکہ دیگر غیر متعین خدمات پر 14 فیصد کردیا گیا ہے۔
ایکسپورٹرز کے لیے ایک فیصد ایڈجسٹ ایبل ایڈوانس ٹیکس ختم کرکے برآمدات پر 1.25 فیصد کم از کم ٹیکس مقرر کیا گیا ہے، جبکہ آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات پر 0.25 فیصد شرح 2029 تک برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین کنندگان کی تعداد 20 لاکھ ہوگئی، وزیر مملکت خزانہ
500 ملین روپے تک آمدن رکھنے والے بیشتر ٹیکس دہندگان کے لیے سپر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے جبکہ 500 ملین روپے سے زیادہ آمدن رکھنے والے دیگر ٹیکس دہندگان کے لیے شرح 8 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ بینکنگ کمپنیوں سمیت بعض مخصوص شعبوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس برقرار رہے گا۔









