بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حوثیوں اور ایران نواز عراقی گروپ کے حملے، سعودی عرب کی اہم ترین تیل پائپ لائن بند

سعودی عرب(Saudiarabia) نے اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو فضائی حملے کے بعد عارضی طور پر بند کردیا ہے، جبکہ یمن کے حوثی باغیوں کی بحیرہ احمر میں پیش قدمی اور آبنائے باب المندب پر بڑھتے اثر و رسوخ نے خطے میں تیل کی ترسیل کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی وزارت توانائی نے کہا ہے کہ 1200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا۔ یہ پائپ لائن جمعرات کی صبح سعودی عرب کے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں حملے کا نشانہ بنی تھی۔

حملے کے بعد سیٹلائٹ تصاویر میں مدینہ کے جنوب میں پائپ لائن کے ایک علاقے سے سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق حملے میں کچھ افراد زخمی ہوئے جبکہ پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم وزارت نے تیل کی برآمدات پر پڑنے والے فوری اثرات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

سعودی عرب اور عراق دونوں نے کہا ہے کہ حملہ عراق سے کیا گیا تھا، جہاں ایران نواز مسلح گروہ سرگرم ہیں۔ حملے کے بعد عراق نے ایک فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا۔ عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق مذکورہ کمانڈر صوبہ میسان میں فوجی کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔

میسان صوبہ جنوب مشرقی عراق میں ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اسے طویل عرصے سے ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

سعودی عرب نے عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال حملے کا فوجی جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ عراقی حکومت نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔

مزیدپڑھیں:برمنگھم ٹیسٹ: پاکستان ٹیم دوسری اننگز میں 449 رنز بنا کر آؤٹ، انگلینڈ کو فتح کے لیے 130 رنز کا ہدف

ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کے راستے سے بچتے ہوئے تیل بحیرہ احمر کے راستے منتقل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس پائپ لائن سے روزانہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا رہا تھا، جو عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد بنتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ اسی دوران یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی ہے۔

یمنی حکومت کے چار ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ حوثیوں نے جمعہ کو بحیرہ احمر کے دہانے پر آبنائے باب المندب میں واقع اہم جزیرہ پریم پر قبضہ کرلیا۔ پائپ لائن پر حملے اور پریم جزیرے پر قبضے کے واقعات کو خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حوثیوں کی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کی خام تیل کی سپلائی تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایجنسی نے اس کی ایک وجہ باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حوثی گروہوں سے منسلک حملوں کو بھی قرار دیا ہے۔

عراق نے بھی احتیاطی اقدام کے طور پر ایران کے ساتھ شلمچہ سرحدی گزرگاہ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ راستہ ایران سے عراق میں سبزیوں اور دیگر غذائی اشیا کی درآمد کے اہم راستوں میں شامل ہے۔ حملے کے ذمہ داروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔

حوثیوں کے مزید آگے بڑھنے پر یمنی حکومت کی فورسز نے ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کا عندیہ دیا ہے جن پر اس ہفتے حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تیزی سے قبضہ کیا۔

حوثی جنگجو یمن کی خانہ جنگی کے دوران طویل عرصے تک سعودی فضائی حملوں کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہے تھے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کو ایران کی پاسداران انقلاب کی براہ راست رہنمائی سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے بڑھانے کی ہدایت دی اور انہیں مزید فنڈز، ہتھیار اور اعلیٰ عہدیدار فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

ایران حوثیوں کو اپنا اتحادی قرار دیتا ہے، تاہم وہ عوامی طور پر حوثیوں کو فوجی ہدایات دینے کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ حوثی پراکسی نہیں ہیں۔

دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ سعودی بحری جہازوں کے علاوہ تمام بحری جہازوں کے لیے سمندری آمدورفت محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی جہازوں پر پہلے سے اعلان کردہ پابندی برقرار ہے۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے امریکا سے بھی فوجی مدد مانگی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کم از کم دو مرتبہ فون پر بات کرکے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مدد کی درخواست کی۔

واشنگٹن نے فی الحال براہ راست فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے، تاہم امریکا نے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔