پیٹرول(Petrol) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ کردیا گیا، تاہم طیاروں کے ایندھن جیٹ فیول کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 17 روپے 35 پیسے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 12 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 324 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے، جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 279 روپے 55 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔
دوسری جانب طیاروں کے ایندھن جیٹ فیول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسے 309 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 12 ستمبر سے 14 ستمبر تک ہوگا۔
پیٹرول اور ڈیزل بھی مہنگے
اس سے قبل پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 2 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ان قیمتوں کا اطلاق بھی 12 ستمبر سے 14 ستمبر تک ہوگا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر کمی دیکھنے میں آئی، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق 11 ستمبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 3.02 ڈالر کمی کے بعد 104.61 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جبکہ امریکی خام تیل WTI کی قیمت تقریباً 99.18 ڈالر فی بیرل تک آگئی۔
مزیدپڑھیں:حوثیوں نے باب المندب آبنائے کے وسط میں واقع انتہائی اہم جزیرے ’پریم‘ پر بھی قبضہ کر لیا
رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے سپلائی کے خدشات
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں اور تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایک اور بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہ اہم آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے بھی خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور خلیجی خطے میں ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کے باعث 2026 میں عالمی تیل کی سپلائی میں یومیہ 5.7 ملین بیرل تک کمی کا امکان ہے۔
عالمی سطح پر سپلائی میں ممکنہ کمی اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔









