بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

موبائل فونز پر ڈیوٹی میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملے گا؟

پاکستان (Pakistan)میں درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کردی گئی ہے، جس کے بعد 500 ڈالر سے زیادہ مالیت کے موبائل فونز پر فی فون ڈیوٹی 22 ہزار روپے سے کم ہو کر 17 ہزار 600 روپے رہ گئی ہے۔

‎حکومت نے مختلف قیمتوں کے موبائل فونز کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی کے نئے سلیب مقرر کیے ہیں، جس کے تحت 30 ڈالر تک کے فون پر ڈیوٹی 300 سے کم کرکے 240 روپے، 30 سے 100 ڈالر تک کے فون پر 3 ہزار سے کم کرکے 2 ہزار 400 روپے، جبکہ 100 سے 200 ڈالر تک کے فون پر ڈیوٹی 7 ہزار 500 سے کم کرکے 6 ہزار روپے کردی گئی ہے۔

اسی طرح 200 سے 350 ڈالر تک کے فونز پرڈیوٹی 11 ہزار سے کم کرکے 8 ہزار 800 روپے، 350 سے 500 ڈالر تک کے فونز پر 15 ہزار سے کم کرکے 12 ہزار روپے، جبکہ 500 ڈالر سے زیادہ مالیت کے فونز پر ڈیوٹی 22 ہزار سے کم کرکے 17 ہزار 600 روپے مقرر کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ بعض موبائل فونز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بھی 6 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ CKD اور SKD حالت میں درآمد ہونے والے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 5 سے کم کرکے 4 فیصد کردی گئی ہے۔

کیا موبائل فون سستے ہوں گے؟

حکومت کے فیصلے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ڈیوٹی میں کمی کا فائدہ موبائل فون خریدنے والے صارفین تک بھی پہنچے گا یا نہیں؟

اگرچہ 500 ڈالر سے زیادہ مالیت کے فونز پرریگولیٹری ڈیوٹی میں 4 ہزار 400 روپے فی فون کی کمی ہوئی ہے، تاہم موبائل فون کی حتمی قیمت صرف ریگولیٹری ڈیوٹی سے طے نہیں ہوتی۔

مزیدپڑھیں:نادرا کا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم پیغام

درآمدی موبائل فون کی قیمت میں کسٹمز ڈیوٹی، دیگر ٹیکسز، ڈالر کی شرحِ تبادلہ، درآمدی لاگت اور ڈیلرز و درآمد کنندگان کے مارجن سمیت کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔

اس لیے ماہرین کے مطابق ڈیوٹی میں کمی سے فون کی قیمت میں کچھ کمی کا امکان ضرور پیدا ہوتا ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ حکومت کی جانب سے ڈیوٹی میں جتنی کمی کی گئی ہے، مارکیٹ میں فون بھی اتنا ہی سستا ہو۔

500 ڈالر سے زیادہ مالیت کے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 22 ہزار روپے سے کم کرکے 17 ہزار 600 روپے فی فون کر دی گئی ہے، یعنی اس کیٹیگری میں فی فون 4 ہزار 400 روپے کی کمی ہوئی ہے۔

ڈیوٹی میں کمی سے صارفین کو ریلیف ملنے کا امکان ہے، خرم عباس

موبائل فون انڈسٹری کے ماہر خرم عباس کے مطابق ڈیوٹی میں کمی سے صارفین کو ریلیف ملنے کا امکان ہے، تاہم اس کا حقیقی فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ درآمد کنندگان اور ریٹیلرز اس کمی کو کس حد تک موبائل فونز کی حتمی قیمت میں منتقل کرتے ہیں۔

خرم عباس کا کہنا ہے کہ صرف ریگولیٹری ڈیوٹی کم ہونے سے موبائل فون کی قیمت میں اسی تناسب سے کمی ضروری نہیں، کیونکہ درآمدی فونز کی قیمت پر دیگر ٹیکسز، ڈالر کی شرحِ تبادلہ، درآمدی اخراجات اور مارکیٹ مارجن بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

یعنی ڈیوٹی میں 4 ہزار 400 روپے کی کمی کا مطلب یہ نہیں کہ صارف کو بھی فون کی قیمت میں لازماً پورے 4 ہزار 400 روپے کا ریلیف ملے گا۔ حتمی قیمت میں دیگر ٹیکسز اور کاروباری اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔

صارف کو ریلیف ملنے کا انحصار کس پر ہے؟

موبائل فون مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین کئی مراحل سے گزر کر ہوتا ہے۔ اگر درآمد کنندگان ڈیوٹی میں کمی کا مکمل فائدہ صارفین کو منتقل کرتے ہیں تو نئے موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔

تاہم اگر درآمدی لاگت، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ یا کاروباری مارجن میں اضافہ ہو جائے تو ڈیوٹی میں کمی کا اثر صارفین تک محدود پیمانے پر پہنچ سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حالیہ فیصلے کے بعد ماہرین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ٹیرف میں کمی موبائل فونز کو عام صارف کی پہنچ میں لانے کے لیے کافی ہے؟

درآمدی موبائل فونز کی طلب میں پہلے ہی اضافہ

حکومت کی جانب سے ڈیوٹی میں کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان میں موبائل فونز کی درآمد پہلے ہی بڑھ رہی ہے۔

مالی سال 26-2025 کے دوران اسمارٹ فونز اور سیلولر فونز کی مجموعی درآمدات تقریباً 1.888 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ حجم تقریباً 1.497 ارب ڈالر تھا۔

یعنی ایک سال کے دوران موبائل فونز کی درآمد میں تقریباً 391 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔

مکمل طور پر تیار حالت میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز، یعنی CBU فونز کی درآمد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کی درآمدی مالیت مالی سال 26-2025 میں بڑھ کر 357.7 ملین ڈالر ہوگئی۔

مقامی موبائل مینوفیکچرنگ کے لیے کیا پالیسی ہے؟

حکومت کی نئی ٹیرف پالیسی کا ایک اہم پہلو مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ بھی ہے۔

پاکستان میں موبائل ڈیوائسز کی مقامی تیاری کے لیے 25-2020 کی پالیسی اپنی مدت مکمل کر چکی ہے، جبکہ نئی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی وفاقی حکومت کی منظوری کی منتظر ہے۔

یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹی کم کرنے سے مقامی موبائل فون اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ صنعت پر کیا اثر پڑے گا؟

اگر درآمدی فونز نسبتاً سستے ہوتے ہیں تو صارفین کو زیادہ انتخاب مل سکتا ہے، لیکن مقامی صنعت کے لیے درآمد شدہ مکمل تیار فونز کے ساتھ مقابلہ بھی بڑھ سکتا ہے۔