بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نئی آٹو پالیسی میں غریب عوام کیلئے کیا ہوگا؟

 حکومت (Government)نے نئی 5 سالہ آٹو پالیسی کی منظوری دے دی جس کے تحت ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی مرحلہ وار کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

نجی ٹی وی کے پروگرام میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیداوار و صنعت ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ نئی آٹو پالیسی میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے سستی گاڑیوں کی دستیابی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ایک سوال کے جواب میں ہارون اختر خان نے بتایا کہ حکومت آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھانے، گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے، مقامی پیداوار اور لوکلائزیشن کو فروغ دینے کے لیے نئی پالیسی متعارف کرانے جارہی ہے، جس میں مخصوص کیٹیگری کی الیکٹرک گاڑیوں پر نہ ہونے کے برابر ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

انہوں نے بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت نئے ماڈلز اور نئے مینوفیکچررز کو ابتدا میں مکمل تیار شدہ گاڑیاں (سی بی یو) درآمد کرکے پاکستانی مارکیٹ میں آزمانے کے لیے ایک سے دو سال کی مہلت دی جائے گی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اگر کوئی ماڈل مارکیٹ میں کامیاب رہتا ہے تو کمپنی کو اسمبلی پلانٹ لگانے اور بعد ازاں مقامی پیداوار اور لوکلائزیشن کی جانب بڑھنا ہوگا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

ہارون اختر کے مطابق نئی پالیسی میں ایسی مالیاتی ساخت وضع کی گئی ہے جس کے تحت کمپنیوں کو مقامی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن کی طرف بڑھنے کی ترغیب ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مدت گزرنے کے بعد درآمدی پرزوں اور مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) یونٹس پر ڈیوٹی میں بتدریج اضافہ ہوگا، جس سے مقامی سطح پر پیداوار اور لوکلائزیشن کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

مزیدپڑھیں:دنیا کی تیل سپلائی خطرے میں؟ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پھر بڑھ گئی

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کا ایک مقصد موجودہ گاڑی ساز اداروں کی پیداواری صلاحیت بڑھانا بھی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں پاکستان میں گاڑیوں کی سالانہ پیداوار ساڑھے 3 لاکھ یونٹس تک پہنچی تھی اور حکومت چاہتی ہے کہ صنعت دوبارہ زیادہ پیداوار کی جانب بڑھے۔

متوسط طبقے کے لیے سستی گاڑیوں پر توجہ

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم کی توجہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے گاڑیوں کو نسبتاً سستا بنانے پر ہے، ان کے مطابق لگژری گاڑیوں کے بجائے عام شہری کے لیے دستیاب گاڑیوں کی قیمت کم کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی سہولت

ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت الیکٹرک وہیکلز کے شعبے میں بھی تیزی سے تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق نئی پالیسی میں ایک مخصوص کیٹیگری کی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے تقریباً نہ ہونے کے برابر ڈیوٹی رکھی جائے گی اور مینوفیکچررز کو دو سال کا موقع دیا جائے گا کہ وہ سستی الیکٹرک گاڑیوں کے ماڈلز پاکستان میں متعارف کرائیں۔

3ہزار چارجنگ اسٹیشنز کا منصوبہ

معاون خصوصی کے مطابق پاکستان کی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیوں کو بھی متعارف کرانے کا مقصد صارفین میں چارجنگ اسٹیشن دستیاب نہ ہونے کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کم کرنا ہے۔

نئی آٹو پالیسی کب آئے گی؟

ہارون اختر خان نے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی کی تیاری کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہورہے ہیں، ان کے مطابق وزیراعظم نے قانونی دستاویزات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے۔