اسلام آباد کی طرف پی ٹی آئی(PTI) کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی، خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی، گورنر راج یا دیگر آئینی اقدامات کی بازگشت اور ملک میں بڑھتے ہوئے تصادم کے خدشے کے درمیان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات نے پہلے پہل ایک ایسے سیاسی منظرنامے کو جنم دیا جس میں کئی ماہ بعد پہلی مرتبہ یہ امید دکھائی دی کہ شاید بات سڑکوں کے بجائے میز پر طے ہوسکتی ہے۔
جس مذاکراتی عمل کا آغاز جمعے کو مسکراہٹوں، مصافحوں اور ’حل نکالنے‘ کے عزم سے ہوا تھا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہفتے کی رات سے اتوار کی علی الصبح تک تقریباً 10 گھنٹے کی نشست، متعدد ڈرافٹس اور کامیابی کی گردش کرتی خبروں کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔
جمعے کو مذاکرات کے پہلے دور کا آغاز بھی اسی امید کے ساتھ ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں حکومتی اور اپوزیشن نمائندے آمنے سامنے بیٹھے تو ماحول غیر معمولی طور پر خوشگوار دکھائی دیا۔
دونوں جانب کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کا خیرمقدم کیا، مصافحے ہوئے اور ابتدائی گفتگو میں کسی فریق کی جانب سے ایسی شرط سامنے نہیں رکھی گئی جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ مذاکرات شروع ہوتے ہی ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے ہیں۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے گا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر موجود صحافیوں، سیاسی حلقوں اور عام شہریوں میں بھی یہ امید پیدا ہوئی کہ اسلام آباد کی طرف بڑھتے سیاسی تصادم کو شاید مذاکرات کے ذریعے روکا جاسکتا ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ مذاکرات میں موجود تھے۔ حکومتی وفد میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنما شریک تھے، حکومتی وفد میں محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، طلال چوہدری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
پہلے دور کے اختتام پر دونوں فریقوں نے دوسرے روز دوبارہ بیٹھنے پر اتفاق کیا، فریقین نے اپنے اپنے مطالبات اور تحفظات پیش کیے، تاہم اس بات پر بھی اتفاق رہا کہ مذاکرات کی اندرونی گفتگو کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا جائے گا تاکہ بات چیت کسی غیر ضروری بیان بازی کی نذر نہ ہو۔ دوسرے دور سے قبل اپوزیشن نے بھی مذاکرات کے لیے یہی طریقہ کار تجویز کیا کہ دورانِ مذاکرات کوئی فریق میڈیا سے گفتگو نہ کرے اور آخر میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے۔
نماز جمعہ کے بعد امام مسجد پارلیمنٹ ہاؤس نے مذاکرات کی کامیابی کے لیے 2 مرتبہ دعا کی۔ اس موقع پر اسپیکر ایاز صادق پہلی صف، اسد قیصر دوسری صف، بیرسٹر گوہر تیسری صف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری پانچویں صف اور مذاکراتی وفد میں شامل دیگر رہنما بھی مسجد میں موجود تھے۔
مزیدپڑھیں:خیبرمیں سیکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی، فتنہ الخوارج کے 8 دہشتگرد ہلاک
ہفتے کو مذاکرات کے دوسرے دور کا وقت پہلے 2 بجے مقرر کیا گیا، پھر اسے 3 بجے کردیا گیا، تاہم حکومتی مصروفیات کے باعث یہ نشست مقررہ وقت پر شروع نہ ہوسکی۔ بالآخر شام تقریباً پونے 5 بجے اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر کے دروازے بند ہوئے اور مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا۔
اس مرتبہ صورتِ حال پہلے روز سے مختلف تھی۔ اسپیکر چیمبر کے باہر میڈیا کی بڑی تعداد موجود تھی، کیمرے نصب تھے اور صحافی اسپیکر چیمبر کے باہر اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ اندر سے کسی بھی لمحے مذاکرات کے نتیجے کی خبر آ سکتی ہے۔
وقت گزرتا گیا، شام رات میں اور رات گہری رات میں تبدیل ہوگئی، لیکن چیمبر کے اندر سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہ آیا۔
اچانک ’مذاکرات کامیاب ہوگئے‘ کی خبر
شام ساڑھے 6 سے 7 بجے کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور ایک ڈرافٹ تیار کیا جارہا ہے۔ اس خبر نے کئی گھنٹوں سے اسپیکر چیمبر کے باہر بیٹھے صحافیوں میں ایک مرتبہ پھر امید پیدا کردی۔
پھر اندر سے ایسی تصاویر بھی سامنے آئیں جن میں حکومتی وفد کے ارکان مبینہ طور پر ایک ڈرافٹ پر مشاورت کرتے دکھائی دیے۔ اس مرحلے پر یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ شاید دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچ گئے ہیں اور اب صرف اعلامیے کی تیاری باقی ہے۔
اسی دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ڈرافٹ لے کر ایوان صدر جانے اور واپس آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ انہوں نے واپسی پر میڈیا کے سوالات کے جوابات تو نہیں دیے، لیکن ان سے منسوب یہ تاثر سامنے آیا کہ ’اچھی خبر‘ آنے والی ہے۔
اس وقت اسپیکر چیمبر کے باہر بیٹھا میڈیا مسلسل انتظار کرتا رہا، ہر چند منٹ بعد یہ سوال اٹھتا کہ کیا اب پریس کانفرنس ہوگی، کیا مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے والا ہے، مگر دروازے بند ہی رہے۔
رات گئے پارلیمنٹ ہاؤس کے میڈیا سینٹر سے متعلق حکام کی جانب سے بھی یہ بتایا گیا کہ مذاکرات ختم ہوگئے ہیں اور اچھی خبر متوقع ہے، تاہم میڈیا ٹاک نہیں ہوگی اور باضابطہ اعلامیہ میڈیا تک پہنچا دیا جائے گا۔
یوں لگا کہ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد بالآخر وہ مقام آگیا ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن کسی متفقہ فارمولے پر پہنچ چکے ہیں، لیکن پھر وقت گزرتا گیا، ایک گھنٹہ، پھر دوسرا گھنٹہ، اور جس مشترکہ اعلامیے کا انتظار تھا، وہ سامنے نہ آیا۔
کسی میڈیا نمائندے نے دعویٰ کیا کہ محمود خان اچکزئی نہیں مان رہے اور بضد ہیں کہ عمران خان سے ملاقات کرائی جائے، پھر مارچ کی کال ختم کی جائے گی۔ کسی نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں حکومت مطالبہ کر رہی ہے کہ پی ٹی آئی آئندہ کبھی اسلام آباد کی جانب مارچ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے۔
بالآخر رات تقریباً پونے 3 بجے اپوزیشن رہنما اسپیکر چیمبر سے باہر نکلے تو منظر بدل چکا تھا، کامیابی کی خبروں کی جگہ ڈیڈلاک کی خبر نے لے لی۔
حکومتی مؤقف
مذاکرات کے بعد حکومتی وفد نے واضح کیا کہ بنیادی اختلاف خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی پالیسی اور صوبائی حکومت کے کردار پر ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مذاکرات اور بات چیت کے تمام راستے آخری حد تک اختیار کیے، لیکن خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ تعاون نہ ہونے کے باعث معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔
ان کے مطابق معاہدہ تقریباً طے پاگیا تھا، تاہم مذاکراتی ٹیم کو خیبر پختونخوا سے ’’ڈکٹیٹ‘‘ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔
حکومتی مؤقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ڈرافٹ میں دو، تین مرتبہ تبدیلی کی گئی، مگر صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنے اور وفاقی پالیسی کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرانے پر تیار نہ ہوئی، جس کے باعث معاہدہ نہیں ہوسکا۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق عمران خان سے ملاقات اور علاج معالجے سے متعلق معاملات نسبتاً چھوٹی باتیں تھیں۔ ملاقاتیں قانون اور جیل ضابطوں کے مطابق پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوسکتی ہیں، بشرطیکہ انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
حکومت کی مذاکراتی ٹیم کی رکن شیری رحمان نے بھی کہا کہ ڈرافٹ میں 4 مرتبہ تبدیلی کی گئی، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق لانگ مارچ اور بعض دیگر معاملات پر اپوزیشن معاہدے پر آمادہ نہیں ہوئی۔
اپوزیشن کا مؤقف
دوسری جانب اپوزیشن نے حکومتی مؤقف سے اتفاق نہیں کیا، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات ختم ہوگئے ہیں، لیکن ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ان کے مطابق بنیادی مسئلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، ذاتی معالج تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں ممکنہ آپریشن سے متعلق تحفظات تھے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے بھی اپوزیشن کو تحفظات ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں آئی ڈی پیز موجود ہیں۔
راجہ ناصر عباس کے مطابق حکومتی وفد نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ فی الحال عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جاسکتی، البتہ ان کی بہنوں اور وکلا کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا اور اپوزیشن کی خواہش تھی کہ مذاکرات کسی ایسے مشترکہ نتیجے تک پہنچیں جس پر دونوں فریق آگے بڑھ سکیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مذاکرات کے اختتام پر کہا کہ کئی معاملات پر گفتگو ہوئی، تاہم بعض بنیادی امور پر حکومت کے ساتھ ڈیڈلاک برقرار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج، دہشتگردی، لانگ مارچ اور عمران خان سے ملاقات سمیت متعدد معاملات زیر بحث آئے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فریقین نے اگلے روز مذاکرات کے کسی نئے سیشن پر اتفاق نہیں کیا، تاہم ایک دوسرے کے ساتھ بعض امور کا تبادلہ کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ نشست ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کو کامیاب دیکھنا چاہتی تھی، تاہم لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے۔ لانگ مارچ سیاسی جماعت کا حق ہے اور اس کی آڑ میں ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے صوبے کے عوام میں تناؤ پیدا ہو۔
ان کے بقول، سیاست میں کوئی چیز آخری نہیں ہوتی اور لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں ہونا چاہیے۔
مذاکرات کی میز پر اصل اختلاف کیا تھا؟
مذاکرات کی پوری کہانی ایک دلچسپ موڑ پر آکر رک گئی، ذرائع کے مطابق ایک طرف حکومت یہ چاہتی رہی کہ لانگ مارچ کا معاملہ پہلے ختم ہو اور خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف وفاقی پالیسی کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن کی جانب سے عمران خان سے ملاقات، ان کے ذاتی معالج تک رسائی، خیبر پختونخوا میں ممکنہ آپریشن اور لانگ مارچ کے حوالے سے یقین دہانیوں کو اہم قرار دیا گیا۔
اسی دوران یہ سوال بھی مذاکرات کی میز پر موجود رہا کہ لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ پہلے ہوگا یا عمران خان سے ملاقات کے بعد۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر آخری وقت تک موجود صحافیوں کے لیے بھی یہ رات ایک غیر معمولی سیاسی منظرنامہ بن گئی، چند گھنٹے پہلے تک کامیابی کے اعلامیے کا انتظار تھا، پھر ’اچھی خبر‘ کی امید دلائی گئی لیکن اسپیکر چیمبر سے نکلنے والے رہنماؤں نے آخرکار ڈیڈلاک کی تصدیق کردی۔









