بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد ناکام ہو چکا، اسے تھرپارکر والوں کے حوالے کردیں، بلاول بھٹو

ملکی ترقی میں رکاوٹیں حائل کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے، نفرت کی سیاست کسی کےحق میں نہیں، چیئرمین پیپلز پارٹی

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ‘تباہ شدہ نظام’ کو بحال کرنے کے لیے نئے صوبے بنانے کی ‘لاجک’ کو سمجھ سے باہر قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ اگر اسلام آباد میں ‘نظام ناکام’ ہوچکا ہے تو اسے ‘تھر پارکر والوں کے حوالے کر دیں’۔

وہ تھرکول بلاک ٹو فیز تھری پروجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے جولائی 30 کو دیے گئے بیان کی طرف اشارہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ “نظام منہدم ہو چکا ہے تو آپ نئے صوبے بنائیں۔”

انہوں کہا کہ یہ منطق ان کی سمجھ سے باہر ہے، لیکن اگر اسے مان بھی لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد ناکام ہو چکا ہے۔ اس صورت میں انہوں نے مشورہ دیا کہ “اسلام آباد کو تھرپارکر والوں کے حوالے کر دیں، ہم اسے ٹھیک کر دیں گے۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘تھرپارکر والے’ اسلام آباد کے اسپتالوں کو بھی بہتر کر کہ انہیں عالمی معیار کے مطابق لے آئیں گے جہاں علاج بھی مفت ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو تھر کی ترقی ہضم نہیں ہورہی، پورا پاکستان حیران ہورہا ہے کہ تھر کہاں پہنچ چکا ہے، اسلام آباد کو بھی تھرکی طرح چلنا چاہئے۔

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ تھر میں صحت ،تعلیم کے نظام میں ترقی ہوئی ہے، تھر میں تبدیلی کے ساتھ ترقی بھی واضح ہوئی ،تھر بلاک تھری میں2ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔

اسلام آباد کے ماہرین کہتے تھے کہ تھر کے کوئلے کی کوئی اہمیت ہی نہیں، آج ہم تھر کا کوئلہ استعمال کرکے1.6ارب ڈالر زرمبادلہ بچارہے ہیں

چیئرمین پیپلز پارٹی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ایک سیاسی یتیموں کی جماعت کراچی میں انتشار کی سیاست کررہی ہے، یہ سیاسی جماعت سندھ میں انتشار چاہتی ہے لیکن یہ کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کے نتائج آتے ہیں تو تھرپارکر کے بچے ٹاپ کرتے ہیں،تھرکو مبارکباد دینے کے بجائے یہ سیاسی یتیم نفرت کی سیاست کرتے ہیں،ہم نفرت کی سیاست دفن کردیں گے، تھر ترقی کرتارہے گا۔ملکی ترقی میں رکاوٹیں حائل کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے،نفرت کی سیاست کسی کےحق میں نہیں ہے۔

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں نظام تباہ ہونے کا بیانیہ بنا کر نئے صوبے بنانے کی بات کی جارہی ہے،اسلام آباد ناکام ہوچکا ہے تو اسے تھرپار کروالوں کےحوالے کردیں۔

اس موقع پر انہوں نے سندھ کی بزنس کمیونٹی کو تھر میں صوبائی حکومت کیساتھ پارٹنر شپ کی دعوت بھی دی۔

اس سے قبل مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھر کول فیز تھری کا منصوبہ 100 فیصد اپنی مالی اعانت سے مکمل کیا جا رہا ہے، مقامی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی درآمدی کوئلے کے مقابلے میں سستی ہوگی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ فیز تھری سے لکی الیکٹرک کا 660 میگاواٹ کا بجلی گھر تھر کے کوئلے سے چلایا جائے گا، تھر سے بجلی کی مجموعی پیداوار 1,980 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔

مزید پڑھیں:گورنر راج اچھا فیصلہ نہیں، آخری حد تک نہیں جانا چاہتے، امیر مقام

تھر فیز تھری سےسالانہ تقریباً 220 ملین ڈالر کے اضافی زرمبادلہ کی بچت ہوگی،بینظیر بھٹو نے تھر کے کوئلے کو پاکستان کے توانائی بحران کے حل کا ذریعہ قرار دیا تھا،تھر میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد کو تکنیکی مہارتوں کی تربیت دی جا چکی ہے۔