احتجاج کے ہزاروں حامی گرفتار کیے جا رہے ہیں، احتجاج کا بنیادی مطالبہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کا استعفیٰ ہے، بانی کاکروچ جنتر پارٹی
بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے متنازع عمل کے خلاف نوجوانوں کی تحریک نے ہفتے کو دارالحکومت نئی دہلی میں بڑے احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔
رائٹرزکے مطابق کاکروچ جنتر پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس مختلف ریاستوں میں ان کے ہزاروں حامیوں کو حراست میں لے رہی ہے، احتجاج کا بنیادی مطالبہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سربراہ گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔
جن پرناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پرنام خارج کرنے کا عمل حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ابھیجیت ڈپکے نے جمعے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرجاری بیان میں کہا کہ وہ ہفتے کو نئی دہلی پہنچیں گے اور ہرصورت جنترمنترکی جانب مارچ کریں گے، جنترمنتردارالحکومت میں احتجاج کے لیے مختص مقام ہے۔
ابھیجیت ڈپکے نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوان اب ان سے خوفزدہ نہیں ہیں، حامیوں کی گرفتاریوں کے باوجود احتجاج کا منصوبہ برقرار ہے۔
‘ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ نام خارج کئے گئے’
بھارت میں ووٹر فہرستوں پرنظرثانی کا تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ملک بھر میں انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ ووٹرز کے نام نکالے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔
نوجوانوں کی تحریک، اپوزیشن جماعتوں اوران کی طلبہ تنظیموں نے الیکشن کمیشن کے اس اقدام پراعتراضات اٹھاتے ہوئے گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں 2024 کے انتخابات کے دوران کم از کم 96 کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔
انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل گزشتہ سال مشرقی ریاست بہار میں انتخابات سے قبل شروع کیا گیا تھا، تاہم اب اس کا دائرہ بیشتر بھارتی ریاستوں تک پھیل چکا ہے۔
حکومت کے ناقدین اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ تقریباً دو دہائیوں بعد ہونے والی اس نظرثانی کے ذریعے بڑے پیمانے پر شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے اور اس سے بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ وہ اس عمل کو ختم کرکے سابقہ ووٹر فہرستیں بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ سامنے آنے والے اعداد و شمار نظرثانی کے ابتدائی مسودے میں نشان زد کیے گئے ووٹر اندراجات سے متعلق ہیں اور یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ کمیشن کے مطابق جن افراد کے نام غلطی سے خارج ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔
نئی دہلی پولیس نے کہا ہے کہ کاکروچ جنتر پارٹی کو ہفتے کے احتجاج کے لیے اجازت نہیں دی گئی۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے قواعد کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق خبررساں ادارے نے ایک سرکاری دستاویز دیکھی ہے جس کے مطابق دارالحکومت میں سکیورٹی کے لیے ہزاروں پولیس اہلکاروں اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا جا رہا ہے ان میں مقبوضہ کشمیر جیسے حساس علاقوں سے اہلکاروں کی منتقلی بھی شامل ہے۔
تحریک کا دعویٰ ہے کہ مختلف بھارتی ریاستوں میں پولیس ہفتے کے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے والے ہزاروں کارکنوں کو حراست میں لے رہی ہے۔ تاہم رائٹرز ان دعوؤں اور سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس، جس کی قیادت راہول گاندھی کر رہے ہیں، نے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کی مخالف ایک درجن سے زائد جماعتوں کے اتحاد کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے رہنما جمعے کی شام صدر دروپدی مرمو سے بھی ملاقات کریں گے، بھارت میں صدر کا عہدہ زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے۔
ادھر احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی آنے والی بعض طویل فاصلے کی ٹرینیں ہفتے کے لیے منسوخ کر دی گئی ہیں۔
رائٹرز کی دیکھی گئی دستاویزات کے مطابق حکام نے بتایا کہ پولیس نے ممکنہ طور پر بے قابو ہجوم کے خدشے کے باعث میٹرو ٹرینوں کی سروس کم کرنے اوربعض اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستے بند رکھنے کی درخواست بھی کی ہے۔
مزید پڑھیں:ہمت ہے تو کل صوابی کراس کرکے دکھائیں، فیصل کنڈی کا پی ٹی آئی کو چیلنج
ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر حکومت، الیکشن کمیشن، اپوزیشن اور نوجوانوں کی تحریک کے درمیان اختلافات کے باعث ہفتے کے احتجاج کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔









