بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایک اسپلٹ اے سی کو مکمل طور پر سولر پر چلانے کے لیے کتنے پینلز درکار ہیں؟

موجودہ دور میں بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث گھروں میں اسپلٹ ایئر کنڈیشنر (اے سی) کو سولر پاور سسٹم پر منتقل کرنے کے حوالے سے تکنیکی ماہرین کی جانب سے ایک جامع معلوماتی اور حسابی تخمینہ جاری کر دیا گیا ہے، جس کی مدد سے صارفین اپنے اے سی کے لیے درکار سولر پینلز کی درست تعداد کا اندازہ لگا سکتے ہیں.

تفصیلات کے مطابق موجودہ عہد میں اسپلٹ ایئر کنڈیشنر کا استعمال انتہائی عام ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ یہ سینٹرل ایئر کنڈیشنر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم بجلی خرچ کرتے ہیں اور ونڈو اے سی کے مقابلے میں ان کا استعمال اور دیکھ بھال بھی کافی آسان سمجھی جاتی ہے۔ ایک محتاط تکنیکی تخمینے کے مطابق ایک عام اسپلٹ ایئر کنڈیشنر آپریشن کے دوران 4 سے 12 ایمپیئر کے درمیان بجلی استعمال کرتا ہے، جس کے لیے اسے اوسطاً 700 سے 1200 واٹس کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم اے سی کے انورٹر یا نان انورٹر ہونے کے لحاظ سے اس واٹیج میں کمی بیشی بھی ممکن ہوتی ہے.

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی اسپلٹ اے سی کو صرف سولر پینلز پر چلانے کے لیے بجلی کی کل کھپت کو کلو واٹ آورز (kWh) میں تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ اے سی کے اؤٹ ڈور کنڈنسر پر لگی ڈیٹا پلیٹ سے اس کے واٹ دیکھے جائیں، پھر اس واٹیج کو روزانہ استعمال کے گھنٹوں سے ضرب دے کر 1000 پر تقسیم کر دیا جائے۔ مثال کے طور پر، اگر 900 واٹ کا ایک اے سی روزانہ 8 گھنٹے چلایا جائے تو اس کی روزانہ کی کھپت 7.2 کلو واٹ آور بنتی ہے، جو کہ گرڈ یا سرکاری بجلی پر چلانے کی صورت میں ماہانہ بلوں میں بھاری اضافے کا باعث بنتی ہے.

سولر پینلز کی تعداد کا انحصار پینل کے حجم اور اس علاقے میں سورج کی روشنی کے دورانیے پر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر 400 واٹ کا ایک معیاری سولر پینل استعمال کیا جائے تو وہ اوسطاً روزانہ 1.5 سے 2 کلو واٹ آور بجلی پیدا کرتا ہے. اس حساب سے اگر ایک اے سی کو روزانہ 8 کلو واٹ آور بجلی درکار ہو اور 400 واٹ کا ایک پینل 1.6 کلو واٹ بجلی دے، تو اسے مستقل چلانے کے لیے 5 سے 6 سولر پینلز کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب اگر زیادہ صلاحیت یعنی 550 واٹ کے جدید پینلز لگائے جائیں جو روزانہ تقریباً 2.2 کلو واٹ آور بجلی پیدا کرتے ہیں، تو وہی اے سی محض 4 سے 5 سولر پینلز پر آسانی سے چلایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ شدید گرم اور زیادہ دھوپ والے علاقوں میں سولر پینلز کی کارکردگی اور بجلی کی پیداوار میں مزید بہتری بھی ممکن ہو جاتی ہے۔

عملی طور پر ایک ٹن کے انورٹر اے سی کو دن کے وقت سولر پر چلانے، ساتھ میں دو پنکھے اور دو لائٹس کا اضافی بوجھ اٹھانے، رات کو واپڈا کی بجلی استعمال کرنے اور بیٹری کے بغیر (Battery-less) سسٹم انسٹال کرنے کے حوالے سے درج ذیل تکنیکی اور مالیاتی تخمینہ سامنے آتا ہے:

سولر پینلز کا انتخاب: بنیادی تجویز کے مطابق چار سے پانچ عدد جدید 600 واٹ کے پینلز (مجموعی طور پر 2.4 سے 3 کلوواٹ) کا انتخاب کیا جاتا ہے، جس کے لیے ٹاپ ٹائر برانڈز جیسے Jinko، LONGi یا JA Solar موزوں ترین رہتے ہیں۔ پانچ پینلز کی تخمینی قیمت 1 لاکھ 15 ہزار سے 1 لاکھ 42 ہزار روپے تک بنتی ہے۔

انورٹر اور ضروری سامان: 3 سے 4 کلوواٹ کا ایسا انورٹر درکار ہوتا ہے جو بیٹری کے بغیر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، دن کے وقت سولر سے لوڈ چلائے اور ضرورت کے مطابق خودکار طریقے سے واپڈا کی بجلی استعمال کرنے کی سہولت دے۔ اس کی تخمینی قیمت 80 ہزار سے 1 لاکھ 50 ہزار روپے تک ہوتی ہے، جبکہ ماؤنٹنگ اسٹرکچر، وائرنگ، حفاظتی بریکرز اور انسٹالیشن کے اخراجات 35 ہزار سے 50 ہزار روپے کے لگ بھگ ہوتے ہیں۔

مجموعی تخمینی بجٹ: اس پورے نظام کا کل تخمینی بجٹ 3 لاکھ 50 ہزار سے 4 لاکھ 50 ہزار روپے کے درمیان رہتا ہے (جس میں اے سی کی قیمت شامل نہیں ہوتی)۔

اہم احتیاطی تدابیر: بادلوں یا کم دھوپ والے موسم میں 3 کلوواٹ کے پینلز بھی اے سی کو مسلسل چلانے کی مکمل ضمانت نہیں دے سکتے۔ اس لیے انسٹالر سے دن کے مختلف اوقات میں اے سی کی حقیقی کھپت اور واپڈا بیک اپ کے طریقۂ کار کی تحریری وضاحت ضرور لینی چاہیے۔