دنیا بھر میں ہر روز اربوں فونز، لیپ ٹاپس اور ہیڈ فونز کو بغیر تاروں کے مربوط کرنے والی عالمی ٹیکنالوجی ’بلوٹوتھ‘ کا نام دسویں صدی کے ایک ایسے معروف وائیکنگ بادشاہ ہیرالڈ گورمسن سے منسوب ہے، جس نے ڈنمارک کو ایک متحد ریاست بنایا اور وہاں عیسائیت کی بنیاد رکھی۔
تفصیلات کے مطابق ڈنمارک کے تاریخی قصبے جیلنگ (کوپن ہیگن سے تقریباً 250 کلومیٹر مغرب) میں موجود قدیم و بلند اونچے پتھر (Runestones) اس عظیم وائیکنگ بادشاہ کی کہانی سناتے ہیں، جن کا لقب قدیم نورس زبان میں “بلاتون” (Blátǫnn) یا بلوٹوتھ تھا۔ مؤرخین کے مطابق یہ لقب ان کی وفات کے 150 سال بعد تحریری طور پر سامنے آیا، جس کا ممکنہ اشارہ ان کے کسی نیلے یا گلے سڑے دانت کی طرف تھا. ہیرالڈ کی سب سے بڑی کامیابی 965ء کے قریب مختلف قبائل اور چھوٹی ریاستوں میں تقسیم شدہ شمالی یورپ کے خطے میں پورے ڈنمارک اور ناروے کو فتح کرنا اور ڈنمارک کے باشندوں کو عیسائیت میں داخل کر کے ایک مضبوط ریاست بنانا تھا۔

جیلنگ قصبے میں موجود دو قدیم اور تاریخی اونچے پتھروں میں سے چھوٹا پتھر بادشاہ کے والد گورم نے ملکہ تھیرا کی یاد میں نصب کرایا تھا، جس پر پہلی بار تحریری طور پر ’ڈنمارک‘ کا نام درج پایا جاتا ہے اور اسی لیے مقامی باشندے اسے ڈنمارک کا “پیدائشی سرٹیفکیٹ” قرار دیتے ہیں۔ جبکہ بادشاہ ہیرالڈ کے نصب کردہ بڑے پتھر پر عیسائیت قبول کرنے کا فتح نامہ اور سکینڈینیویا کی قدیم ترین عیسیٰؑ کی تصویر نقش ہے، جسے ڈنمارک کا “بپتسمہ پتھر” بھی کہا جاتا ہے۔ ان تاریخی ٹیلوں، چرچ اور یادگاروں کو 1994 میں ڈنمارک کا پہلا یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا.
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اس وائیکنگ بادشاہ کے نام کے کنکشن کی کہانی بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ جس طرح ہیرالڈ نے مختلف یورپی قبائل اور ریاستوں کو ایک پرچم تلے متحد کیا، بالکل اسی طرح 1990ء کی دہائی میں جب مختلف ٹیک کمپنیوں نے آلات کو بغیر تار کے جوڑنے کا نظام بنایا تو اسے ڈنمارکی بادشاہ کے نام سے “بلوٹوتھ” کا عارضی نام دیا گیا جو بعد میں مستقل ہو گیا۔ حتیٰ کہ بلوٹوتھ کا عالمی سطح پر جانا پہچانا جانے والا لوگو (Logo) بھی قدیم نورس رسم الخط کے دو حروف ’H‘ (ہیرالڈ) اور ’B‘ (بلوٹوتھ) کو ملا کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

سال 2023 میں بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر اس ٹیکنالوجی کے بانیوں نے جیلنگ کے میوزیم کا دورہ کیا اور بادشاہ ہیرالڈ کا نام بلا اجازت استعمال کرنے پر خوشگوار انداز میں معذرت کی، جس پر میوزیم انتظامیہ نے انھیں اگلے ایک ہزار سال کے لیے یہ نام استعمال کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق ہیرالڈ کو اپنی کامیابیوں پر بے حد فخر تھا اور اگر وہ آج زندہ ہوتے تو یہ دیکھ کر بے حد خوش ہوتے کہ اربوں لوگ روزانہ ان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔









