بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان میں کب کب ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہوا؟ قیامِ پاکستان سے اب تک کی تاریخ

اسلام آباد: پاکستان کی تاریخ میں ایمرجنسی(emergency) اور گورنر راج مختلف سیاسی، آئینی اور سکیورٹی بحرانوں کے دوران نافذ کیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی جنگ اور ملکی سلامتی کو بنیاد بنایا گیا، کبھی صوبائی حکومت کی آئینی مشینری کی ناکامی کا مؤقف سامنے آیا، جبکہ بعض مواقع پر ان اقدامات نے وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کو بھی جنم دیا۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ایک بار پھر ایمرجنسی اور گورنر راج کے آئینی اختیارات زیرِ بحث ہیں۔ 11 اکتوبر 2026ء کو وفاقی کابینہ نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی سفارش کرتے ہوئے وزیراعظم کی جانب سے صدرِ مملکت کو سمری بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق یہ اقدام صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں سے متعلق وفاقی حکومت کے تحفظات کی بنیاد پر تجویز کیا گیا۔ تاہم کابینہ کی سفارش اور صدر کی جانب سے حتمی اعلان دو الگ مراحل ہیں۔

پاکستان میں پہلی ایمرجنسی کب نافذ ہوئی؟

پاکستان میں پہلی ملکی سطح کی ایمرجنسی کا اعلان 27 اگست 1948ء کو کیا گیا تھا۔ اس وقت ملک کو تقسیمِ ہند کے بعد بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور مہاجرین کی آبادکاری کے مسائل کا سامنا تھا۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق حکومت نے آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے پیدا ہونے والے حالات اور ملکی معاشی زندگی کو لاحق خطرات کے تناظر میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام موجودہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت نافذ کی جانے والی ایمرجنسی سے پہلے کے قانونی نظام کے تحت کیا گیا تھا۔

1954ء کا آئینی بحران

اکتوبر 1954ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کردی اور ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا۔ اس اقدام نے پاکستان میں آئینی اختیارات، اسمبلی کی حیثیت اور گورنر جنرل کے اختیار سے متعلق ایک بڑے تنازع کو جنم دیا۔

دستور ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیزالدین خان نے اسمبلی کی تحلیل کو عدالت میں چیلنج کیا۔ یہ معاملہ بعد ازاں پاکستان کی آئینی اور عدالتی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں شمار ہونے لگا۔

1965ء کی جنگ اور ہنگامی حالت

6 ستمبر 1965ء کو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد ملک میں ہنگامی اقدامات کیے گئے۔ جنگ کے دوران قومی سلامتی، دفاع اور انتظامی امور کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔

یہ دور پاکستان کی تاریخ میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتِ حال کے حوالے سے اہم ہے۔ تاہم اس دور کے اقدامات کو سمجھنے کے لیے جنگی ہنگامی انتظامات اور بعد کے آئینی ادوار میں نافذ ہونے والی ایمرجنسی کے قانونی طریقۂ کار میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

1969ء اور 1971ء کے سیاسی و ریاستی بحران

مارچ 1969ء میں جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا اور ملک میں مارشل لا نافذ کیا۔ اس کے بعد پاکستان سیاسی بحران، انتخابی تنازع اور مشرقی پاکستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے دوچار رہا۔

1971ء میں مشرقی پاکستان کی صورتِ حال، جنگ اور بالآخر ملک کی تقسیم پاکستان کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے دسمبر 1971ء میں اقتدار سنبھالا۔ اس دور کے واقعات میں ایمرجنسی، مارشل لا اور فوجی اقتدار کے مختلف ادوار شامل رہے، اس لیے ان تمام اقدامات کو ایک ہی قانونی زمرے میں رکھنا درست نہیں ہوگا۔

مزیدپڑھیں:سہیل آفریدی کو حراست میں لے لیا گیا

1977ء کا مارشل لا

5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا نافذ کیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں منتخب حکومت کا خاتمہ ہوا اور ملک میں فوجی اقتدار کا نیا دور شروع ہوگیا۔

یہ واقعہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی بحث میں اس لیے اہم ہے کہ مارشل لا، آئینی ایمرجنسی اور گورنر راج الگ قانونی و سیاسی اقدامات ہیں۔ ان کے اختیارات، نفاذ کا طریقہ اور آئینی بنیاد ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔

1998ء میں ایمرجنسی

مئی 1998ء میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اس وقت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور قومی سلامتی سے متعلق صورتِ حال کو ہنگامی اقدامات کی وجہ قرار دیا گیا۔

دستیاب آئینی ریکارڈ کے مطابق 28 مئی 1998ء کے اعلانِ ایمرجنسی کو بعد میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منظوری بھی دی گئی۔

2007ء کی ایمرجنسی: اہم ترین حالیہ مثال

3 نومبر 2007ء کو صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی۔ اس اقدام کے ساتھ عبوری آئینی حکم نامہ (پی سی او) جاری کیا گیا اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے معاملے پر شدید تنازع پیدا ہوا۔

ایمرجنسی کے دوران عدلیہ، میڈیا اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کے حوالے سے ملک بھر میں ردِعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں 15 دسمبر 2007ء کو ایمرجنسی اٹھا لی گئی اور آئین بحال کیا گیا، اگرچہ اس دوران کیے گئے بعض اقدامات اور عدلیہ سے متعلق فیصلے متنازع رہے۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ گورنر راج کب نافذ ہوا؟

پاکستان میں گورنر راج کی پہلی نمایاں مثال صوبہ پنجاب میں 25 جنوری 1949ء کو سامنے آئی۔ اس وقت وزیراعلیٰ افتخار ممدوٹ کی حکومت ختم کردی گئی اور صوبائی انتظامی امور گورنر کے کنٹرول میں آگئے۔ یہ انتظام اپریل 1951ء تک جاری رہا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان اور پنجاب کی صوبائی قیادت کے درمیان سیاسی اختلافات اور اسمبلی میں اکثریت سے متعلق معاملات نے اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس واقعے کو پاکستان میں صوبائی خودمختاری اور وفاقی اختیارات کی تاریخ کے ابتدائی اہم موڑوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

مشرقی پاکستان میں گورنر راج

1954ء میں مشرقی پاکستان میں بھی سیاسی بحران کے دوران صوبائی حکومت کو برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت صوبائی سیاست میں شدید اختلافات اور مرکز و صوبے کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی تھی۔

مشرقی پاکستان میں ایسے اقدامات نے صوبائی نمائندگی، منتخب حکومتوں کے اختیار اور وفاقی مداخلت سے متعلق بحث کو مزید گہرا کیا۔ بعد ازاں 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے ساتھ اس خطے کی سیاسی اور آئینی حیثیت یکسر تبدیل ہوگئی۔

پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گورنر راج

پاکستان کی تاریخ میں مختلف اوقات میں چاروں صوبوں میں گورنر راج یا اس سے ملتے جلتے غیر معمولی انتظامی اقدامات کیے گئے۔ ان کے اسباب میں سیاسی عدم استحکام، صوبائی حکومتوں اور وفاق کے درمیان اختلافات، اسمبلیوں کی تحلیل اور امن و امان سے متعلق بحران شامل رہے ہیں۔

پنجاب: 1949ء میں گورنر راج کی پہلی مثال کے بعد بھی صوبے میں مختلف ادوار میں غیر معمولی انتظامی اقدامات کیے گئے۔ فروری 2009ء میں بھی پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا، جب شریف برادران کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعد صوبے کی حکومت سے متعلق بحران پیدا ہوا۔

خیبر پختونخوا: سابق صوبہ سرحد میں 1975ء، 1994ء اور 1999ء کے بعد بھی مختلف ادوار میں گورنر راج یا غیر معمولی انتظامی بندوبست کی مثالیں سامنے آئیں۔ 1975ء میں نافذ گورنر راج تقریباً 76 روز جاری رہا، جس کے بعد صوبے میں دوبارہ وزیراعلیٰ نے ذمہ داریاں سنبھالیں۔

سندھ اور بلوچستان: ان صوبوں میں بھی مختلف سیاسی اور انتظامی بحرانوں کے دوران وفاقی مداخلت اور غیر معمولی اقدامات کی مثالیں ملتی ہیں۔ تاہم گورنر راج کی مجموعی تعداد کے بارے میں مختلف تاریخی حوالوں میں فرق پایا جا سکتا ہے، کیونکہ بعض فہرستوں میں مارشل لا کے دوران صوبائی انتظامی کنٹرول کو بھی گورنر راج کے ساتھ شمار کیا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی حالیہ بحث

ستمبر 2026ء کے آخری ہفتے میں وفاقی حکومت کے نمائندوں نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور امن و امان کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے ایمرجنسی کے امکان پر بات کی تھی۔ 30 ستمبر کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

11 اکتوبر کو وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی کے نفاذ کی سفارش کرتے ہوئے صدرِ مملکت کو سمری بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس پیش رفت کے بعد معاملہ آئینی طریقۂ کار اور صدر کے حتمی فیصلے سے جڑ گیا۔ وفاقی حکومت نے سکیورٹی صورتِ حال کو بنیاد بنایا، جبکہ اس اقدام کے سیاسی اثرات اور صوبائی خودمختاری سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔