بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آئندہ مالی سال تک بی پلس کریڈٹ ریٹنگ حاصل کرنا ہمارا پہلا ہدف، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بلومبرگ ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان کو گزشتہ سال سے اب تک کریڈٹ ریٹنگ میں تین اپ گریڈ مل چکے ہیں اور حکومت عالمی قرض مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کے ساتھ عالمی مالیاتی منڈیوں میں ملک کی ساکھ مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق موڈیز ریٹنگز نے اگست میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کر دی تھی۔ ایجنسی نے اس بہتری کی وجوہات میں حکومتی مالیاتی صورتحال اور زرمبادلہ کی پوزیشن میں بہتری کو شامل کیا تھا۔

اسی طرح ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے جولائی میں پاکستان کی ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی تھی جس کی وجہ معاشی حالات میں بہتری بتائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان 2022 میں ڈیفالٹ کے دہانے سے نکلنے میں کامیاب ہوا جس میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مالی معاونت نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے 4 سال بعد اپنے پہلے یورو بانڈ اجرا کے ذریعے 3 ارب ڈالر بھی حاصل کیے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔

انٹرویو کے دوران محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت رواں مالی سال میں بانڈز جاری کرنے میں جلد بازی نہیں کرے گی تاہم مستقبل میں اسلامی سکوک کے اجرا اور ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز کے لیے بینکوں کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ اس نوعیت کے بانڈز پہلی مرتبہ جاری کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

حکومت چین کی مقامی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ پروگرام کے بقیہ حصے کے لیے بھی جلد بولیاں طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ یورو بانڈز کو ٹوکنائز کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پاکستان آئندہ دو سے تین برس میں قلیل مدتی بیرونی قرضوں کے کچھ حصے کو طویل مدتی قرضوں سے تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ قرضوں کی ادائیگی اور دوبارہ مالی اعانت کے خطرات کم کیے جا سکیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ مختصر مدت کے قرضوں کی بار بار تجدید کے خطرے سے بچنا ضروری ہے کیونکہ یہ صورت حال کریڈٹ ریٹنگ کے نقطہ نظر سے بھی ملک کے لیے مفید نہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کا مجموعی بیرونی قرض تقریباً 100 ارب ڈالر ہے اور حکومت اسے وسیع پیمانے پر مستحکم رکھتے ہوئے موجودہ واجبات کی ری فنانسنگ، قرض کے ذرائع میں تنوع اور ادائیگی کی مدت بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ مجوزہ 10 ارب ڈالر کی سہولت کے حوالے سے فعال مذاکرات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سہولت کا مقصد قرض یا کریڈٹ لائن فراہم کرنے کے بجائے نقدی کی دستیابی اور مالیاتی لیکویڈیٹی کو سہارا دینا ہے۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی محصولات سے متعلق بات چیت آخری مرحلے میں ہے۔

پاکستان میں زراعت، معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے ذریعے معاونت کے امکانات زیر غور ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے چیئرمین جان جووانووچ نے پاکستان کے ریفائنری سیکٹر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے جہاں بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کی نئی آٹو موبائل پالیسی کی منظوری آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان نے رواں سال جولائی میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی کی درخواست کی تھی جس کی مدت پانچ سال تک ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:‘خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، اسحاق ڈار’

اسلام آباد نے یہ درخواست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات سے فائدہ اٹھانے اور مالیاتی استحکام کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت کی تھی۔