بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

قومی اسمبلی کا اجلاس خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کیلئے قرارداد پیش

اسلام آباد:  خیبرپختونخوا میں نافذ کئے گئے گورنر راج اور ایمرجنسی کی آئینی توثیق کیلئے قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کر دی گئی۔سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس 45 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس سے قبل سپیکر اور اتحادی جماعتوں کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا جس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق لائحہ عمل طے کیا گیا، اجلاس میں پیپلز پارٹی، ن لیگ اور دیگر اتحادی جماعتوں کے اراکین شامل تھے۔

قرارداد پیش

اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا کہ گزارش ہے کہ وقفہ سوالات کو معطل کیا جائے، جس کے بعد قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کی کارروائی معطل کر دی گئی، اپوزیشن کی جانب سے تحریک کی مخالفت کی گئی۔

بعدازاں اجلاس میں وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کیلئے قرارداد پیش کی۔

کے پی حکومت کا دہشتگردی کیخلاف رویہ ملکی سلامتی کیلئے خطرہ تھا: اعظم نذیر تارڑ

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بہت سے دوستوں نے کہا کہ ایمرجنسی لگا کر منتخب حکومت کو باہر نکال دیا گیا، خیبر پختونخوا میں اندرونی خلفشار اور سرحد پار دراندازی کی وجہ سے ایمرجنسی کا فیصلہ کیا، کابینہ اجلاس میں ڈھائی گھنٹے گفتگو کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی تجویز دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئین پاکستان کے عین مطابق ہے، ریاست کی سلامتی، اتحاد اور عوام کی فلاح کیلئے آئینی اختیارات استعمال کئے گئے، آئین پاکستان مختلف حالات سے نمٹنے کیلئے واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال ایمرجنسی کے نفاذ کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 2021 سے 2024 تک 2911 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے پر وفاقی حکومت کو تشویش ہے، کے پی میں دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، غیر معمولی صور تحال کیلئے غیر معمولی اقدامات ناگزیر تھے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے فورسز اور عوام کی شہادتوں کو نظر انداز کیا، دہشت گردی کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دوروں پر نکل گئے، صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر توجہ کے بجائے دارالحکومت پر چڑھائی کا اعلان کیا گیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیاسی جماعت کے نظریے کی وجہ سے دہشت گردی کو ہوا ملی، ان کا رویہ اسلام آباد فتح کرنے والا تھا، ہم نے مذاکرات جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سیاست کو ترجیح دی، پوری قوم نے دیکھا، دو دن ہم سر جوڑ کر بیٹھے رہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبے میں جلتی آگ کو نظر انداز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار شخص کو رہا کرنا عدالت کا اختیار ہے، وہ مطالبات کیے گئے جو ایگزیکٹو کے اختیار میں نہیں، ہم سے جیل میں قید اپنے لیڈر کیلئے آسانیوں اور سہولتوں کا مطالبہ کیا گیا، مذاکرات میں مطالبہ کیا گیا پہلے یہ واضح کیا جائے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کب ہوگی، ہمیں ریاست سیاست سے زیادہ عزیز ہے۔

تلخ جملوں کا تبادلہ

وفاقی وزیر قانون کی تقریر کے دوران اعظم نذیر تارڑ اور شفقت عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر بیرسٹر گوہر نے شفقت عباس کو خاموش رہنے کو کہا۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کے پی میں 3 سال میں دہشت گردی کے 2911 اور گزشتہ ایک سال کے عرصے میں 3783 واقعات ہوئے، کے پی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ ملکی سلامتی کیلئے خطرہ تھا، گورنر کے پی طویل عرصے سے صوبے میں لگی آگ سے متعلق شکایت کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں:اسحاق ڈار، عمانی وزیر خارجہ ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت پر پی ٹی آئی نے خود سیاسی خودکش حملہ کیا، ایک سیاسی جماعت کیلئے سیاسی سپیس تنگ ہوتی ہے تو ہر سیاسی جماعت کی سپیس محدود ہوتی ہے، پی ٹی آئی کوئی ایک وجہ تو دیتی کہ ایمرجنسی سے بچ جاتے۔