بینکاک: وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا) بلال بن ثاقب نے عالمی بینک گروپ کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کے مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ڈیجیٹل فنانس کے فروغ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقاتوں کے دوران انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے علاقائی نائب صدر عماد فاخوری سے ڈیجیٹل بانڈز، اسلامی سکوک کی ٹوکنائزیشن اور پاکستان میں عالمی سرمایہ کاری لانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
عالمی بینک گروپ کے نائب صدر و خزانچی جارج فیمیلیئر سے ملاقات میں اثاثوں کی ٹوکنائزیشن، ڈیجیٹل بانڈز اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے سرمایہ منڈیوں کو مستحکم بنانے کے امور زیر بحث آئے۔
بلال بن ثاقب نے عالمی بینک کے ڈیجیٹل امور اور مصنوعی ذہانت کے نائب صدر سانگبو کم سے بھی ملاقات کی، جس میں مالیاتی نگرانی بہتر بنانے، ضابطہ کار اداروں کی استعداد بڑھانے اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عالمی بینک گروپ کی نائب صدر و کنٹرولر زنگا وینر سے ملاقات میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے مالیاتی شفافیت، مؤثر نگرانی اور مضبوط ڈیجیٹل مالیاتی اداروں کے قیام پر گفتگو ہوئی۔
وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے ہمراہ بارکلیز کے سرمایہ کاروں کے گول میز اجلاس میں بھی شرکت کی۔ عالمی بینک گروپ کی قیادت سے ملاقاتوں میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل بانڈز، اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مالیاتی نگرانی پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم کی قیمتی پتھروں اور جواہرات کیلئے ’’برانڈ پاکستان‘‘ متعارف کرانے کی ہدایت
بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو صرف جدید مالیاتی ٹیکنالوجی اپنانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مستقبل کے مالیاتی نظام کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل بانڈز، اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ضابطہ کاری پاکستان کی معیشت کے لیے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے، جبکہ حکومت کا مقصد جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے نئے دروازے کھولنا ہے۔









