تحریک انصاف کے سابق رہنما فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ انہوں نے 10 ماہ پہلے ہی خیبرپختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ اور سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق بات کی تھی اور وہ آج بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں بھی دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہیں، تاہم خیبرپختونخوا کا بنیادی مسئلہ دہشت گردوں کی مخالفت کرنے کے بجائے دوسری طرف کھڑا ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہونے کی بات کی جاتی ہے۔
فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ساڑھے 7 ہزار شہری اور پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں 13 سال سے مینڈیٹ کا ذکر کیا جا رہا ہے لیکن اب کارکردگی دکھانے کا وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایک جماعت کا نہیں بلکہ دوسرے صوبوں کا مینڈیٹ بھی حقیقی ہے۔ ان کے بقول اگر دوسرے صوبوں میں فارم 47 کی بات کی جاتی ہے تو خیبرپختونخوا کے حوالے سے بھی یہی سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔
فیصل واوڈا نے تحریک انصاف کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی از اوور، انہوں نے عمران خان کے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ اللہ تعالیٰ معجزہ کر سکتے ہیں، دنیاوی اور قانونی طور پر مجھے اب بھی کچھ نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے کہاکہ ابھی پارٹ ون آیا ہے، پارٹ ٹو، تھری اور فور بھی آئے گا، مولانا فضل الرحمان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سے میرا بڑا عزت اور احترام کا رشتہ ہے میرا زرداری صاحب کے ساتھ بھی وہی عزت احترام کا رشتہ ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پاکستان کے ساتھ ہیں اور جب وہ دیکھیں گے کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کو سہولتیں ملنا شروع ہو گئی ہیں تو وہ اس حکومت کا ساتھ دیں گے۔
فیصل واوڈا نے گورنر راج کے نفاذ کو آئین اور قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب صوبے میں کارکردگی دکھانا ہوگی اور ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر گورنر نے عملی کارکردگی دکھائی تو عوام کہیں گے کہ انہیں سیاسی بحث کے بجائے کام سے مطلب ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ کوئی ایک شخص 80 سال تک ایک ہی نشست پر نہیں بیٹھ سکتا اور عہدے پر وہی برقرار رہنا چاہیے جو کارکردگی دکھائے۔
انہوں نے دوسرے صوبوں میں تعلیم اور دیگر شعبوں کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی نمایاں بہتری کی ضرورت ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پوری جماعت دہشت گردوں کے ساتھ نہیں تھی اور پارٹی کے بہت سے لوگوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی جیسے مسئلے پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
پروگرام میں گفتگو کے دوران فیصل واوڈا نے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے دوست ہیں اور دونوں کے درمیان نوک جھونک بھی چلتی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ وزیر تھے تو انہوں نے رانا ثنا اللہ کی بہتری کے لیے بھی کام کیا۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ “جس پر احسان کرو، اس کے شر سے بچو”، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ رانا ثنا اللہ انہیں پسند ہیں اور دوستی میں اختلاف اور نوک جھونک ہوتی رہتی ہے۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب میں حملوں کے بعد فیفا ای اسپورٹس فائنلز ملتوی
رانا ثنا اللہ کے سیاسی و انتظامی طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ ان کا سسٹم پرانا ہو چکا ہے اور اسے ری بوٹ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب موبائل کی میموری بھر جاتی ہے تو اسے دوبارہ چلانے کے لیے ری بوٹ کرنا پڑتا ہے۔









