بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سہیل آفریدی نااہلی سے متعلق درخواست غیر مؤثر، وفاقی آئینی عدالت نے کیس نمٹا دیا

چیف جسٹس امین الدین نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنرراج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی عہدے پر نہیں، اس وقت یہ کیس صرف اکیڈمک سوال کی حد تک رہ گیا ہے، اگرسہیل آفریدی بحال ہوئے تو شیرافضل مروت درخواستیں دوبارہ بحال کرواسکتے ہیں۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد درخواست غیر موثر ہو چکی، کیا حالیہ پیش رفت کے بعد وزیراعلی کیخلاف درخواست سنی جاسکتی ہے؟ حالیہ پیشرفت کے بعد درخواست پر کارروائی نہیں چل سکتی۔

درخواستگزار شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنا چاہتا ہوں، سہیل آفریدی کیخلاف درخواست پر مجھے مختصر التواء دے دیں، جس پر جسٹس باقر نجفی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ الگ ایشو ہیں، وزیراعلی سہیل آفریدی کیخلاف کیس اب زندہ ایشو نہیں رہا۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہوئی تو سہیل آفریدی بحال ہوجائیں گے، جس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اس وقت تو سہیل آفریدی کے پاس وزیراعلی کا منصب نہیں ہے، وزیراعلی بحال ہوئے تو آپ بھی درخواست بحالی کی متفرق درخواست دے سکتے ہیں۔ ہم یہ درخواست نمٹا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:امداد سے تجارت وسرمایہ کاری کا سفر،امسال ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع

واضح رہے کہ اس کیس میں دائر کی گئی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ علی امین گنڈاپور سے زبردستی لیے گئے استعفے اور سہیل آفریدی کی غیر آئینی تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بحال کیا جائے۔