بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گزشتہ 3 برسوں میں کتنے پڑھے لکھے پاکستانیوں نے ملک چھوڑا؟ اہم اعداد و شمار سامنے آگئے

گزشتہ 3 برسوں میں روزگار(Jobs) کی غرض سے بیرون ملک جانے والے 19 لاکھ 45 ہزار پاکستانیوں میں سے 80 فیصد غیر ہنر مند افراد پر مشتمل ہیں جس سے اس تاثر کی نفی ہوتی ہے کہ لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر محمد عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے لاکھوں تعلیم یافتہ اور اعلیٰ ہنر مند نوجوانوں کے بیرون ملک منتقل ہونے یعنی برین ڈرین کا تاثر حقائق کے برعکس ہے کیوں کہ بیورو آف امیگریشن کے سرکاری اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک چھوڑنے والوں کی 80 فیصد سے زائد تعداد غیر ہنر مند مزدوروں اور ڈرائیورز پر مشتمل ہے۔

محمد عدنان پراچہ نے کہا کہ بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانے والے پڑھے لکھے طبقے سے متعلق غلط معلومات پھیلانے سے نہ صرف ملک کی بدنامی ہو رہی ہے بلکہ مقامی نوجوانوں میں مایوسی اور منفی سوچ بھی جنم لے رہی ہے۔

گزشتہ 3 برس کے اعداد و شمار کا جائزہ

عدنان پراچہ کے مطابق بیورو آف امیگریشن کے دفتری ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ پونے 3 سال کے دوران مجموعی طور پر 19 لاکھ 45 ہزار افراد روزگار کی غرض سے مختلف ممالک گئے۔

مزید پڑھیں:والدہ کا شناختی کارڈ نہ ہو تو بچے کا ب فارم کیسے بنے گا؟ نادرا کی وضاحت

انہوں نے بتایا کہا کہ ملک چھوڑنے والے تقریباً 14 لاکھ 50 ہزار افراد میں 10 لاکھ سے زائد عام مزدور اور 4 لاکھ شٹرنگ کرنے والے، کارپینٹر، اسٹیل فکسر، میسن، الیکٹریشن و پلمبر جبکہ سوا 4 لاکھ کے قریب ایل ٹی وی اور ایچ ٹی وی ڈرائیورز شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پونے 3 سال میں ڈاکٹرز، انجینیئرز، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، نرسز، فارماسسٹس اور مینیجرز کی کل تعداد ایک لاکھ 50 ہزار سے ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

بے روزگاری کے اعداد و شمار اور حکومتی پالیسیوں کی اصلاح کا مطالبہ

عدنان پراچہ نے گیلپ سروے کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں 20 سے 24 سال کے ڈگری ہولڈر گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح 35 فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے نئی پالیسیوں کے تحت پراسیس کو پیچیدہ اور طویل بنانے کے بجائے آسان بنایا جائے تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی کھپت بڑھ سکے۔

 عدنان پراچہ نے کہا کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز لائسنس کی فیسوں میں اضافے اور کڑی شرائط سے یہ شعبہ سکڑ رہا ہے جس سے بیرونی ترسیلات زر میں کمی کا خطرہ ہے۔