وزیراعظم شہباز شریف(Shehbaz Sharif) نے کہا ہے کہ صدر مالدیپ کے ساتھ تعمیری اور مثبت بات چیت ہوئی، 11سال بعد مالدیپ کے کسی صدر کا دورہ پاکستان اہمیت کا حامل ہے ۔
مالدیپ کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالدیپ کے طلبہ کی بڑی تعداد پاکستانی اداروں میں زیر تعلیم ہے ،پاکستانی ڈاکٹرز اور معاون طبی عملہ مالدیپ میں انسانیت کی خدمات کررہا ہے۔
برادار ملک کی حیثیت سے مالدیپ کی مزید ضروریات کو بھی پورا کرکے خوشی ہوگی،طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور مالدیپ کے درمیان انسداد منشیات کیلیے تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا ۔
مزیدپڑھیں:مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کیلیے بل ترک پارلیمنٹ میں پیش
دونوں ملکوں کے درمیان سماجی تحفظ کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا گیا ۔
آئی ٹی،سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا ۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور مالدیپ فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے درمیان تعاون پر اتفاق ہو گیا ۔
طبی ماہرین کی بھرتی کے حوالے سے تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے ۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کیلیے دستاویز کا تبادلہ ہوا
پاک مالدیپ کے درمیان بحری سلامتی کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔









