کراچی: بینک اسلامی نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی نو ماہ کی مدت کے دوران 3.1 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا۔
بینک کے مجموعی ڈپازٹس 630.7 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔ بینک کے مطابق یہ نتائج صارفین کے اعتماد اور اسلامی بینکاری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
دسمبر 2025 کے اختتام سے اب تک بینک کے کرنٹ اکاؤنٹس میں 9.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی ڈپازٹس میں ان کا حصہ 43.6 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد ہوگیا۔
اسی طرح بینک کا کرنٹ اکاؤنٹس اور سیونگ اکاؤنٹس (کاسا) کا تناسب بھی دسمبر 2025 کے 71.2 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 74.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
زیرِ جائزہ مدت کے دوران بینک کی مجموعی آمدن 31.9 ارب روپے رہی، جبکہ کیپٹل ایڈیکویسی ریشو 14.9 فیصد رہا، جو بینک کے مطابق مقررہ ریگولیٹری تقاضوں سے زیادہ ہے۔
بینک اسلامی کو رواں سال صارفین کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی بینکاری سہولتوں کی فراہمی کے اعتراف میں یورومنی اسلامک فنانس ایوارڈز کی جانب سے پاکستان کا بہترین اسلامی ڈیجیٹل بینک قرار دیا گیا، جبکہ ڈریگنز آف ایشیا ایوارڈز 2026 میں بھی کری ایٹو ایکسیلنس کیٹیگری میں اعزاز سے نوازا گیا۔
بینک اسلامی کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران ایچ شیخ نے کہا کہ پاکستان میں ربا سے پاک مالیاتی نظام کی جانب پیش رفت کے دوران اسلامی بینکوں کا کردار اہم ہے۔
بینک کی ترجیح اسلامی بینکاری کو ہر فرد کے لیے آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک کے مالیاتی نتائج ربا سے پاک بینکاری پر صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں اور ادارہ زیادہ سے زیادہ صارفین کو اسلامی مالیاتی خدمات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
مزید پڑھیں:شہید میجر وجاہت وحید قوم کا فخر، شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش، حمزہ شہباز
بینک اسلامی ملک بھر میں 560 سے زائد برانچوں کے نیٹ ورک کے ذریعے ریٹیل بینکنگ، کیش مینجمنٹ، انویسٹمنٹ بینکنگ، تجارتی خدمات اور بیرونِ ملک سے رقوم کی ترسیل سمیت مختلف شعبوں میں خدمات فراہم کر رہا ہے۔









