لاہور: لاہور کی ضلع کچہری میں اسکوٹی سوار لڑکی پر مبینہ تشدد کے چرچی کیس میں ایک بڑی قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں عدالت نے گرفتار ملزم غلام مصطفی کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ تھانہ مزنگ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر رکھا تھا اور عدالت سے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔
ضلع کچہری میں ہونے والی سماعت کے دوران پولیس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے، تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا کہ ملزم غلام مصطفی کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کیا جائے، بشرطیکہ وہ کسی دوسرے کریمنل مقدمے میں پولیس کو مطلوب نہ ہو۔ اس رہائی کے بعد کیس کی مزید قانونی کارروائی مقررہ تاریخ پر آگے بڑھائی جائے گی۔
لاہور کے علاقے مزنگ لنک روڈ پر اسکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کا یہ واقعہ ایک معمولی ٹریفک تنازعے (اوور ٹیک کرنے یا سڑک پر راستہ دینے کے معاملے) کی وجہ سے پیش آیا تھا۔
پولیس اور تفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزم غلام مصطفیٰ موٹر سائیکل پر سوار تھا اور اس کی اسکوٹی چلانے والی لڑکی کے ساتھ راستے کے استعمال پر تلخ کلامی یا اوور ٹیک کرنے پر تکرار ہوئی۔ غصے میں آ کر ملزم نے زبردستی لڑکی کا راستہ روکا، اسے نیچے گرا کر تشدد کا نشانہ بنایا، بال کھینچے اور اس کا بیگ زمین پر پھینک دیا جس سے اس کا لیپ ٹاپ بھی ٹوٹ گیا۔ پولیس حکام کے مطابق اس واقعے میں روڈ رینج (ٹریفک کا غصہ) کے ساتھ ساتھ موبائل فون چھیننے کی کوشش اور ہراسانی کے عناصر بھی شامل تھے۔









