لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہائی پروفائل حنا جاوید قتل و زیادتی کیس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈی این اے اور پولی گراف ٹیسٹ کے ابتدائی نتائج سے اس گھناؤنے جرم میں گھریلو ملازم کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوتی ہے، جبکہ کیس کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
سینئر صحافی مبشر زیدی کی ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک اور سنگین واقعے کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زیادتی کے ایک دوسرے حالیہ مقدمے میں یہ چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ با اثر اور امیر ملزم کے خاندان نے متاثرہ خاتون پر دباؤ ڈالنے اور الزامات واپس لینے کے عوض ڈھائی کروڑ روپے تک کی پیشکش کی ہے، حالانکہ متاثرہ خاتون کا دفعہ 164 کے تحت ضابطے کا بیان پہلے ہی ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
In a recent rape case, it was revealed that the accused’s wealthy family allegedly offered 1.5–2 crore to the victim in exchange for withdrawing her allegations, despite her statement already having been recorded under Section 164. It was further alleged that the judge who granted bail to the accused had also been bribed. If these allegations are true, they raise deeply disturbing questions about the integrity of the justice system and the vulnerability of rape survivors to financial pressure and the misuse of power. I will continue to keep a close eye on such cases to ensure that no rapist or perpetrator escapes justice simply because he has money, influence, or connections. Justice must never be for sale, and no one should be above the law.
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 23, 2026
مریم نواز نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ یہ اطلاعات بھی زیرِ گردش ہیں کہ جس جج نے اس زیادتی کیس میں ملزم کی ضمانت منظور کی ہے، اسے مبینہ طور پر رشوت دی گئی تھی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر یہ سنگین الزامات سچے ثابت ہوتے ہیں تو اس سے پورے عدالتی و نظامِ انصاف کی دیانت داری اور شفافیت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ اس نوعیت کے واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معاشرے میں زیادتی کا شکار ہونے والی غریب خواتین مالی دباؤ، دھمکیوں اور طاقت کے غلط استعمال کے سامنے کتنی زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ایسے تمام حساس مقدمات کی ذاتی حیثیت میں نگرانی کریں گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی درندہ صفت مجرم پیسے، اثرو رسوخ یا سیاسی تعلقات کے زور پر قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔
اپنے بیان کے آخر میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ انصاف کبھی بھی خرید و فروخت کی چیز نہیں بننا چاہیے اور قانون کی نظر میں ہر شخص برابر ہے، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔









